لیبیا: ملک کے بڑے حصوں میں انٹرنیٹ بند

Image caption ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین کون ہیں اور ان کی قیادت کون کر رہا ہے

ڈنڈوں اور چاقوں سے مسلح مظاہرین نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ملک کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی کی عمارت پر دھاوا بولا ہے جس کی وجہ سے ملک کے ایک بڑے حصے میں انٹرنیٹ بند ہے۔

تقریباً 150 مظاہرین نے انٹرنیٹ کی سرکاری کمپنی لیبیئن ٹیلی کامز اینڈ ٹیکنالوجی میں گھس کر ملازمین کو مجبور کیا کہ وہ انٹرنیٹ کی رسد بند کر دیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین کون ہیں اور ان کی قیادت کون کر رہا ہے۔

لیبیا میں کرنل قدافی کی حکومت گرنے کے بعد سے عدم استحکام ایک مسئلہ رہا ہے۔

ملک کے مغربی اور جنوبی حصے میں انٹرنیٹ بری طرح متاثر ہے۔ لیبیئن ٹیلی کامز اینڈ ٹیکنالوجی اپنے بیک آپ سسٹم کے ذریعے سروس بحال کی ہے تاہم اس بھی مشکلات آ رہی ہیں۔

لیبیئن ٹیلی کامز اینڈ ٹیکنالوجی کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کمپنی اپنی سروس بند کر دے اور وزیرِاعظم علی زیادان اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں تھہ اور وزارتِ ٹیلی کام کے جن تین ملازمین نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی انہیں مارا پیٹا گیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شام تک مظاہرین نے عمارت پر قبضہ کیا ہوا ہے تاہم کمپنی کی سروس بحال کی جاری ہے۔

طرابلس سے بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں لیبیا میں متعدد عوامی سروسز کو ملیشیا معطل کر کے سیاسی یا مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں کرتی ہے۔

لیبیا کے بہت سے تیل برآمد کرنے کے ٹرمنل جولائی سے بند ہیں۔

اسی بارے میں