لیبیا میں پہلا خودکش حملہ، سات افراد ہلاک

Image caption اس حملے میں خود کش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے لدھا ایک ٹرک استعمال کیا

لیبیا میں کرنل قدافی کی حکومت گرنے کے بعد پہلی بار ایک خودکش حملہ ہوا ہے جس میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ حملہ بن غازی کے قریب اغویرا گاؤں میں ایک سیکورٹی چیک پوائنٹ پر ہوا۔ بن غازی لیبیا کا دوسرا بڑا شہر ہے۔

اس حملے میں کم از کم آٹھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں فوجی اور عام شہری شامل ہیں۔

بن غازی کے مضافاتی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال گذشتہ کئی ماہ سے بگڑتی جا رہی ہے اور تقریباً ہر روز شدت پسند ملیشیا پر حملوں کے الزامات لگ رہے ہیں۔

طرابلس سے بی بی سی کی نامہ نگار رانا جواد کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند کے طریقہِ واردات میں تبدیلی آ رہی ہے جو کہ اس سے پہلے صرف سیکورٹی فورسز کو ہی نشانہ بناتے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں خود کش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے لدھا ایک ٹرک استعمال کیا۔

فوجی اہلکار ایمن العبدلے کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے بتایا کہ ٹویوٹا کمپنی کا یہ ٹرک چوکی کے قریب آ کر کھڑا رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسے ایک نوجوان چلا رہا تھا اور جب فوجی اسے چیک کرنے کے لیے گئے تو اس نے خود کو دھماکے سے اّا لیا۔

زخمی ہونے والے افراد میں قریب کھڑے عام شہری اور فوجی دونوں ہی شامل ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس حملے کی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم یہ گاؤں اسلامی شدت پسند گروہ انصاد الشریعہ کا گڑھ مانا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز مسلح مظاہرین نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں ملک کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی کی عمارت پر دھاوا بولا جس کی وجہ سے ملک کے ایک بڑے حصے میں انٹرنیٹ بند رہا۔ تقریباً 150 مظاہرین نے انٹرنیٹ کی سرکاری کمپنی لیبیئن ٹیلی کامز اینڈ ٹیکنالوجی میں گھس کر ملازمین کو مجبور کیا کہ وہ انٹرنیٹ کی رسد بند کر دیں۔

لیبیا میں کرنل قدافی کی حکومت گرنے کے بعد سے عدم استحکام ایک مسئلہ رہا ہے۔

اسی بارے میں