القاعدہ یمنی ہسپتال پر حملے پر معافی کی طلبگار

Image caption متاثرہ خاندانوں کو خون بہا ادا کرنے کے لیے تیار ہیں: القاعدہ رہنما قاسم الاریمی

جزیرہ نما عرب میں موجود شدت پسند تنظیم القاعدہ نے رواں ماہ کےشروع میں ایک فوجی ہسپتال پر کیے جانے والے حملے میں ہلاک ہونے والے خاندانوں سے معافی مانگی ہے۔

القاعدہ کے ایک فوجی رہنما قاسم الاریمی نے کہا ہے کہ ان کے ایک جنگجو نے تنظیم کی حکم عدولی کرتے ہوئے صنعا کی وزارتِ دفاع کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جس میں باون افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم انھوں نے متبنہ کیا کہ یمنی حکام کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

گروپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ دسمبر کو یمن کی وزارتِ داخلہ کے صحن کو نشانہ بنایا جہاں ان کے مطابق وہاں امریکی ڈرونز کو آپریٹ کیا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ حملے کے وقت یمن کے اس فوجی ہستپال میں اس وقت ڈاکٹر، نرسیں اور مریض موجود تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں جرمنی، بھارت، فلپائن اور ویتنام سے تعلق رکھنے والے سات ڈاکٹر ہلاک ہوگئے تھے۔

یمن کے سرکاری ٹی وی پر سی سی ٹی وی کے ذریعے دکھائی جانے والی تصاویر کے بعد پورے ملک میں غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ ان تصاویر میں ایک مسلح شخص کو نہتے افراد پر گولیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ایک جہادی ویب سائٹ پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں القاعدہ کے رہنما قاسم الاریمی کا کہنا تھا کہ نو حملہ آوروں کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ وہ فوجی ہسپتال اور وزارتِ دفاع میں داخل نہ ہوں۔ تاہم ان میں سے ایک نے حملہ کر دیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں، حملے کی معافی مانگتے ہیں اور حملے میں ہلاک ہونے والے خاندانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔

القاعدہ کے رہنما کے مطابق ہم یمن کے فوجی ہسپتال میں ہونے والے حملے کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ہم مرنے والے افراد کے خاندانوں کو خون بہا ادا کریں گے۔

اسی بارے میں