اسرائیلی رہنماؤں کی جاسوسی پر اسرائیلی جاسوس کی رہائی کا مطالبہ

Image caption امریکہ منظم طریقے سے اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی کے رہنماؤں کی جاسوسی کر رہا ہے: اسرائیل کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ

سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کی جانے والی تازہ دستاویزات کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اسرائیلی رہنماؤں کی بھی جاسوسی کی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اسرائیلی رہنماؤں کی امریکہ کی جانب سے جاسوسی کی خبروں کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

اسرائیلی کابینہ کے کئی ممبران نے امریکہ کی جانب سے اسرائیلی رہنماؤں کی جاسوسی کی خبروں کے بعد مطالبہ کیا ہے کہ امریکی جیل میں قید اسرائیلی جاسوس جوناتھن پولارڈ کو رہا کرے۔

یاد رہے کہ جوناتھن پولارڈ امریکی بحری انٹیلی جنس میں تجزیہ کار تھے۔ ان کو 1987 میں اسرائیل کے لیے جوسوسی کے الزام میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ اسرائیل نے کئی بار امریکی صدور سے پولارڈ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ان صدور نے ان کو معافی دینے سے انکار کیا ہے۔

اسرائیل کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ نے امریکہ سے اسرائیلی رہنماؤں کی جاسوسی فوری روکنے اور پولارڈ کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا:’امریکہ منظم طریقے سے اسرائیل کے سیاسی اور سکیورٹی کے رہنماؤں کی جاسوسی کر رہا ہے۔‘

اسرائیل کے وزیر برائے سیاحت نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’پولارڈ کو اسرائیل لانے کا اس سے بہتر موقع کوئی نہیں ہو سکتا۔‘

تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کو امریکہ کے ساتھ پولارڈ پر بات چیت کے لیے کسی خاص موقعے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں تواتر سے پولارڈ کا ایشو اٹھایا ہے اور ’امید ہے کہ صورتحال ایسی پیدا ہو جائے گی کہ پولارڈ کو رہا کردیا جائے گا۔ لیکن اس بات کا تعلق تازہ صورتحال کے ساتھ نہیں ہے۔‘

ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے لیک کی گئی دستاویزات میں حال ہی میں یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ این ایس اے اور برطانوی تنظیم جی سی ایچ کیو نے 2009 میں اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ اور وزارت دفاع کے سینیئر حکام کی ای میل ہیک کی تھیں۔

اسرائیل کے وزیر برائے سٹریٹیجک امور نے امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے کی جانے والی جاسوسی کو ناقابل قبول قرار دیا۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ ممالک اسرائیل کے اتحادی ہیں لیکن اسرائیل نے یہ سمجھ کر چلتا ہے کہ وہ جاسوسی کریں گے۔

سابق وزیر اعظم اولمرٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر جاسوسی کی خبریں درست ہیں تو یہ ای میل ایڈریس حساس نوعیت کا نہیں تھا اور اس لیے اس جاسوسی سے اسرائیل کو بہت کم نقصان پہنچا ہو گا۔

اسی بارے میں