بنکاک:’انتخابات سے قبل سیاسی اصلاحات ضروری‘

Image caption سٹیڈیم کے گھیراؤ کے بعد اب امیدواروں کی رجسٹریشن کا عمل بنکاک کے تھانوں میں جاری ہے

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرین نے اس سٹیڈیم کا گھیراؤ کر لیا ہے جہاں دو فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں شرکت کے خواہشمند امیدوار رجسٹریشن کے لیے جمع ہو رہے تھے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات سے قبل سیاسی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

اتوار کو بھی دارالحکومت بنکاک میں ہزاروں افراد نے ملک کی موجودہ وزیراعظم ینگ لک شیناواترا کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ینگ لگ شینا واترا نے ان مظاہروں کے بعد ہی دسمبر کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ وہ فروری میں الیکشن کروا دیں گی اور مظاہرین جمہوری نظام کا احترام کریں۔

تھائی لینڈ میں اپوزیشن کی مرکزی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

حکومت مخالف مظاہرین کے رہنما اور ڈیموکریٹ پارٹی کے سابق سیاستدان سوتھپ تھاگسوبان نے اتوار کو بنکاک میں مظاہرے کے دوران کہا تھا کہ ’میں الیکشن سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہم ملک میں انتخابات سے قبل اصلاحات چاہتے ہیں۔‘

Image caption ینگ لک شیناواترا نے انتخابات سے قبل مستعفی ہونے سے انکار کیا ہے

انھوں نے ہی مظاہرین سے بنکاک کے اس سٹیڈیم کے باہر جمع ہونے کو کہا تھا جہاں انتخابات میں شرکت کرنے والے امیدوار پیر کو رجسٹریشن کے لیے جمع ہونا تھے۔

سوتھپ تھاگسوبان نے کہا تھا کہ ’اگر آپ امیدوار بننا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو ہم سے ٹکرانا ہوگا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف کارکنوں کی جانب سے سٹیڈیم کے گھیراؤ کے بعد اب امیدواروں کی رجسٹریشن کا عمل بنکاک کے تھانوں میں جاری ہے۔

تھائی فوج کے سربراہ نے بھی سنیچر کو کہا ہے کہ ملک میں موجود سیاسی تقسیم خانہ جنگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

تھائی لینڈ میں 2010 کے بعد سے شدید سیاسی بحران جاری ہے۔ ینگ لک 2011 میں الیکشن جیت کر برسرِاقتدار آئی تھیں لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ اصل حکومت ان کے بھائی اور معزول کیے گئے سابق وزیراعظم تھاکسین شیناواترا ہی چلا رہے ہیں۔

تھاکسین شیناواترا کی حکومت کو سنہ 2006 میں فوجی بغاوت میں ختم کر دیا گیا تھا اور ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے تھے جس کے بعد سے وہ خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ینگ لک شیناواترا کی جماعت کو اس وقت پارلیمان میں اکثریتی جماعت ہے اور انہیں تھائی لینڈ کی دیہی علاقوں میں بھی واضح حمایت حاصل ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ فروری کے انتخابات بھی جیت سکتی ہیں۔

اسی بارے میں