جنوبی سوڈان میں شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے: اقوامِ متحدہ

Image caption لوگ نقل مکانی کی غرض سے ہمسایہ ملک یوگنڈا کی سرحد کا رخ کر رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان کے شہریوں کو ان حالات میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا جبکہ ملک میں ایک ہفتے سے فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے اور خانہ جنگی شروع ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں اقوامِ متحدہ کے مشن کے ترجمان جوزف کونٹیرس نے دارالحکومت جوبا میں بی بی سی کو بتایا ہے کہ ادارے کے کمپاؤنڈ میں اب تک 20 ہزار افراد نے پناہ لی ہے اور وہ فی الحال محفوظ ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ عالمی تنظیم کو شہر میں خوراک کی تقسیم میں ناکامی کا سامنا ہے۔

جوزف کونٹیرس کے مطابق دارالحکومت کے کئی علاقے اب ویران ہو چکے ہیں اور لوگ نقل مکانی کی غرض سے ہمسایہ ملک یوگنڈا کی سرحد کا رخ کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جبہ سے اپنے عملے کو یوگنڈا منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوبی سوڈان میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے خوف اور ناامیدی کی فضا ہے۔

فلاحی کاموں کے رابطہ کار ٹوبی لانزر نے بی بی سی کو باغیوں کے قبضے میں جونگلائی ریاست کے شہر بور میں بغیر مقدمے کے لوگوں کو سزائے موت دینے کے واقعات کے بارے میں بتایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایک طرف بہت سے لوگ اقوامِ متحدہ کے کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں تو دوسری طرف بہت سے افراد جنگلوں میں چھپے ہیں۔

Image caption جنوبی سوڈان میں بڑھتے ہوئے تشدد کی وجہ سے خوف اور ناامیدی کی فضا ہے: اقوامِ متحدہ

جنوبی سوڈان میں تقریباً ایک ہفتہ پہلے صدر سلوا کیر کے وفادار فوجیوں اور سابق نائب صدر ریک ماچار کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس کے بعد سے ملک میں پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری ہے۔

صدر کیر ماچار پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہیں۔

ٹوبی لانزر نے کہا کہ بور میں پناہ گزینوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے:’مجھے خدشہ ہے کہ چند دنوں میں ہم ہزاروں متاثرین کی بات نہیں کریں گے بلکہ ہم اس کشیدگی سے براہ راست متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کی بات کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ بہت ہی جذباتی لمحہ ہوتا ہے جب کوئی آپ سے کہتا ہے کہ کیا آپ میری جان بچا سکتے ہیں۔‘

ٹوبی لانزر کا کہنا ہے کہ عوام کو صرف روایتی فوجیوں کے مابین لڑائی سے خطرہ نہیں بلکہ کنٹرول سے باہر نوجوانوں کے گروہوں سے بھی شدید خطرات ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بور کو واپس لینے کی کوشش میں ہے لیکن اس علاقے میں حالیہ دنوں میں شدید لڑائی ہوئی ہے۔

جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے دفتر پر حملے میں دو بھارتی امن اہلکار اور 11 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

دریں اثنا امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے شہریوں کو بور شہر سے منتقل کر دیا ہے۔ سنیچر کو ایک ہوئی جہاز پر زمین سے ہونے والے فائرنگ کے نتیجے میں چار امریکی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ اس پر امریکی صدر براک اوباما نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

ادھر تیل سے مالامال یونیٹی سٹیٹ کے دارالحکومت بینٹیو پر ریک ماچار کے حامی فوجیوں نے قبضہ کر لیا ہے جس کی تصدیق سرکاری فوج کے ترجمان فلپ آگیور نے کی ہے۔

کریک ماچار نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اگر حکومت اس ہفتے گرفتار کیے گئے سیاستدانوں کو رہا کرکے کسی دوسرے ملک منتقل کریں۔

صدر کیر نے بھی جمعے کو افریقی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے بعد بات چیت شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

برطانوی وزیرِ خارجہ نے بھی جنوبی سوڈان کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طرفین کو اس کشدگی کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔

اسی بارے میں