معمولی مقدمہ تعلقات کا امتحان بن گیا

Image caption بھارتی سفارت کار پر اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق تنخواہ نہ دینے کا الزام ہے

منطقی اعتبار سے ہر بحران بچاؤ کا ایک موقع ضرور فراہم کرتا ہے لیکن بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سفارتی کشیدگی لگتا ہے کہ بحران سے بچنے کا موقع ضائع کر رہی ہے۔

بجائے اس کے کہ تعلقات مضبوط اور مستحکم کیے جائیں دونوں ممالک بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ الجھن اس وقت پیدا ہوئی جب نیویارک میں بھارت کی نائب کونسل جنرل دیویانی کھوبراگڑے کو گرفتار کیا گیا۔

ان پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنی گھریلو ملازمہ کے لیے ویزے کی درخواست پر غلط بیانی کی اور اسے دی جانے والی تنخواہ کی رقم غلط بتائی۔

یہ تین سال میں بھارتی سفارتکاروں کی ملازمین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا تیسرا واقعہ ہے۔

امریکہ کا موقف ہے کہ دیویانی کھوبراگڑے کو حاصل محدود سفارتی استثنٰی کے دائرے میں قوانین کے منافی یا اس سے متصادم ان کے ذاتی فعل نہیں آتے۔

دیویانی کو جس انداز میں گرفتار کیاگیا اس سے بھارت کی سیاست میں جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ دیویانی کو ہتھکڑی لگائی گئی اور برہنہ تلاشی لی گئی اس کے بعد انھیں جیل میں عام قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا۔

ایک اعلیٰ بھارتی اہلکار نے اس برتاؤ کو ‘قابل مذمت اور سفاک‘ قرار دیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر شو شنکر مینن کو فون کر کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

نئی دہلی نے اس واقعے کے ردِعمل میں نہ صرف امریکی سفارتکاروں کو بھارت میں دی گئی مراعات واپس لے لیں بلکہ امریکی سفارتخانے کے باہر سے حفاطتی انتظامات بھی ختم کر دیے۔

اس کے علاوہ دیویانی کو ترقی دے کر انھیں اقوامِ متحدہ کے مشن کا حصہ بنا دیا گیا جس کے باعث انھیں مکمل سفارتی استثنٰی حاصل ہو گیا۔ اس سے مقدمے پر کیا اثر پڑے گا اس سے قطع نظر اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہ معاملہ سفارتکاری سے بڑھ کر سیاسی رخ اختیار کر چکا ہے۔

کپڑے اتروا کر تلاشی لینا ایک نادانستہ غلطی نہیں تھا۔

امریکی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کہنا ہے انھوں نے ’گرفتاری کے رائج طریقہ کار‘ پر عمل کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دیوانی کھوبراگڑے کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے والی کسی بھی ملزمہ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

Image caption بھارت میں اس پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا

لیکن کسی سفارتکار کی گرفتاری کبھی بھی کسی عام گرفتاری کی طرح نہیں ہوتی۔ اگر وزراتِ خارجہ کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی برہنہ تلاشی لی جائےگی تو اسے معلوم ہونا چاہییے تھا، اور ان سے خصوصی برتاؤ کا مطالبہ کیا جانا چاہیے تھا۔

سفارتکار حلقوں میں ہلکی سے لرزش کا بھی جواب ملتا ہے۔ آپ جو کریں گے ان کا ویسا ہی جواب ملے گا۔ اس کا سیاسی اور عوامی رد عمل بالکل غیر متوقع نہیں ہوتا، خاص طور پر بھارت جیسے ملک میں جہاں کا میڈیا بہت طاقتور اور بعض اوقات گڑھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

لوئر مینہیٹم کی عدالت کا رخ کرتے ہوئے دونوں ممالک نےاس بڑی تصویر اور باہمی وسیع طرح مفادات سے نظریں ہٹا لی ہیں جن پر دنیا کی سب سے پرانی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے تعلقات استوار ہونے ہیں۔

بھارت وہ ابھرتی ہوئی طاقت ہے جس سے امریکہ کئی برسوں سے تعلقات بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

قونصل خانے کے مایوس کن انسانی حقوق ریکارڈ پرجھنجھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے لیکن مقدمے کو چلایا جانا ایک طویل عمل ہے جس کا منفی اثرا سازگار سفارت حالات میں بھی باہمی تعلقات میں پڑنا ناگزیر ہے۔

Image caption دہلی میں امریکی سفارت خانے کے سامنے لگے حفاظتی پشتے بھی ہٹا دیے گئے

امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے اس بارے میں بھارت کو نومبر میں مطلع کر دیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس معاملے پر مقدمے سے بچ کر سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔

امریکہ دیویانی کھوبراگیڈ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے سکتا تھا اور ان کے امریکہ سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کر سکتا تھا، اس کے علاوہ وہ انھیں گھریلو ملازمین کے لیے مزید ویزوں کے اجرا سے انکار کر سکتا تھا۔

لیکن ایک مرتبہ جب امریکہ نے مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو پھر ہر قدم پھونک پھونک کر اور بڑی احتیاط سے کیا جانا چاہیے تھا اورمقدمے کی توجہ انہی پر رہنی چاہیے تھی۔ لیکن یقیناً ایسا نہیں ہوا۔

بھارت کی جانب سے اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ جب امریکی حکام نے انہیں قبل از وقت مطلع کردیا تھا تو امریکہ میں بھارتی سفیر اور بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کوئی اقدام کیوں نہیں اٹھایا۔

بھارتی سفارت کاروں کو یقیناً اس بات کا مکمل ادراک ہو گا کہ امریکی قانون کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی سفارتی روایات کے انحراف سے بھارت کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر اپنے آپ کو ایک مثبت اور تعمیری روپ میں پیش کرنے کی کوشش پر کیا اثر پڑے گا۔

دوسری جانب بھارت میں امریکی سفارتخانے کے باہر سے حفاظتی انتظامات ختم کرنا انتہا پسندی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ تھا۔

گو کہ باقی رہ جانے والے حفاطتی انتظامات بھی کافی ہیں لیکن ویانا کنونشن کے مطابق سفارتخانے کی حفاطت بھارت کی ذمہ داری ہے۔ نئی دہلی کو سمجھنا چاہیے کہ یہ قدم کتنا حساس ہو سکتا ہے انھیں گذشتہ برس لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کو یاد رکھنا چاہیے۔

مقدمے کے دوران بھی دونوں ممالک کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ کبھی کبھار غیر یقینی کا شکار ہوتے لیکن بہتر ہوتے ہوئے تعلقات اس مقدمے کے باعث خراب نہ ہوں۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان ایک چھوٹے سے قانونی مقدمہ کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے ایک بڑا امتحان بن جانا ایک بڑی سفارتی اور بیروکریٹک غفلت ہے۔

اب بھی کئی وجوہات ہیں جن کے باعث امریکہ اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے پر امید ہوا جا سکتا ہے۔ مشترکہ مفادات ، اختلافات کو دور کر سکتے ہیں۔

لیکن اگر گذشتہ ہفتےسے کوئی اشارہ ملتا ہے تووہ یہی ہے کہ آگے کی راہ بہت دشوار گزار ہوگی۔

اسی بارے میں