برطانیہ میں ہزاروں کی کرسمس تاریکیوں کا شکار

Image caption طوفان کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کا رش دیکھنے میں آیا

خدشہ ہے کہ شدید طوفانی موسم کے بعد برطانیہ بھر میں دسیوں ہزار افراد کی کرسمس کی صبح تاریکیوں میں گزرے گی۔

انجینیئر کوشش کر رہے ہیں کہ 75 ہزار گھروں کو کرسمس کے موقعے پر بجلی فراہم کی جا سکے، جب کہ ہیمپشائر، سرے اور ویسٹ سسیکس کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تعطیلات کے لیے گھروں کو جانے والے مسافروں کو سڑکوں، ٹرینوں اور گیٹ وک ہوائی اڈے پر تاخیر کا شکار ہونا پڑا ہے۔ سرے میں دریائے مول میں طغیانی آ گئی اور جھکڑوں کے باعث بہت سے درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔

محکمۂ موسمیات نے لیدرہیڈ کے مقام پر شدید سیلاب کی پیش گوئی کی ہے جس سے زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ محکمے نے کہا ہے کہ کینٹ میں میڈوے دریا میں بھی سیلاب آ گیا ہے، جو تین دن تک رہے گا۔

کینٹ پولیس نے کہا ہے کہ ٹون برج سے آلنگٹن تک کا علاقہ سیلاب کی زد میں ہے۔ ہنگامی امداد کے ادارے نے ٹون برج میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

انگلستان اور ویلز میں فائر فائٹروں کی ہڑتال تھی لیکن سرے اور کینٹ میں شدید سیلاب کے باعث ہڑتالی کارکن کام پر واپس آ رہے ہیں۔

Image caption برطانیہ کے کئی علاقوں میں دریاؤں میں طغیانی ہے

اس سے قبل گیٹ وک ہوائی اڈے پر دریائے مول میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، اور ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے۔ اس دوران بہت سی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جب کہ 26 کو منسوخ کر دیا گیا۔

بجلی کے محکمے کا کہنا ہے کہ برطانیہ بھر میں 75 ہزار گھر اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ادارے کے ترجمان نے کہا کہ انجینیئر کرسمس کے دن بھی کام جاری رکھیں گے۔

یوکے پاور نیٹ ورکس کا کہنا ہے کہ وہ کرسمس کے اگلے دن کے اختتام تک ہر گھر میں بجلی ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔

ڈیوون کے علاقے میں ایک شخص نے اپنے کتے کو بچانے کے لیے دریائے لیون میں چھلانگ لگا دی اور ڈوب گیا۔

عینی شاہدوں نے کہا کہ 46 سالہ مرد جوں ہی دریا میں داخل ہوا، پانی اسے بہا کر لے گیا۔ وہ بعد میں ہسپتال میں چل بسا۔ تاہم کتا بچ نکلا۔

سکاٹ لینڈ میں 130 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں جن سے کرسمس کی تیاریاں درہم برہم ہو گئی ہیں۔ کئی علاقوں میں کشتیوں اور جہازوں سے سفر کرنے والے مسافر متاثر ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں