جرم کا پتہ نہیں لیکن سعودی عرب میں شیعہ شاعر کو سزا

Image caption حبیب المطق کو الفجر کلچر نیٹ ورک ویب سائٹ سے دفتر سے گرفتار گیا گیا تھا

سعودی عرب کی ایک سکیورٹی عدالت نے ایک شاعر اور صحافی حبیب المطق کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔

حبیب المطق کو فرروی سنہ 2012 میں مشرقی شہر جبیل سےگرفتار کیاگیا جہاں شیعہ اقیلت سے تعلق رکھنے والے افراد ملک میں سیاسی اصلاحات کےلیے احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے۔

حبیب المطق کا تعلق بھی شیعہ مسلک سے ہے اور ان کو الفجر کلچرل نیٹ ورک ویب سائٹ کے دفتر سےگرفتار کیاگیا جو ملک میں سیاسی اصلاحات کے لیے ہونے والے مظاہروں کی خبریں دے رہی تھی۔

حبیب المطق کو اطلاعات کے مطابق عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد رہا کر دیاگیا ہے کیونکہ وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں تھے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان پر کس جرم کے تحت مقدمہ چلایاگیا ہے لیکن وہ اس ویب سائٹ سے منسلک تھے جو سیاسی اصلاحات کے لیے ہونے والے مظاہروں کی کوریج کر رہی تھا۔

حبیب المطق کی گرفتاری کے ایک روز بعد ان کے ایک ساتھی حسین ملک السلام کو بھی گرفتار کر لیاگیا تھا۔ حکام نے ایک اور ویب سائٹ کو چلانے والے جلال محمد الجلال کو بھی ان ہی دنوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ان سب افراد کو بعد میں دمام کی جیل میں قید رکھا گیا۔

جبیب المطق کی گرفتاری کے بعد الفجر کلچر نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا تھا۔

سنہ دو ہزا گیارہ میں مشرقی صوبے میں احتجاج کے شروع ہونے کے بعد سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی اکثریت ابھی بھی جیل میں ہیں۔

سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اور دس احتجاجی مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

سعودی عرب کے حکام کا موقف ہے کہ فوجیوں نے صرف مسلح افراد کو نشانہ بنایا تھا۔

اسی بارے میں