بغداد:کرسمس پر عیسائی برادری پر حملے

Image caption عراق میں سال 2003 کے بعد سے عیسائی برادری پر کئی بار حملے ہو چکے ہیں

عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کے مطابق کرسمس کے موقع پر ایک چرچ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیتھولک عیسائی فرقے کے ایک گرجا گھر کے قرب اس وقت کار بم دھماکہ ہوا جب وہاں سے لوگ کرسمس کی دعائیہ تقریب سے واپس جا رہے تھے۔

اس کے علاوہ بغداد میں ہی ایک دوسرے واقعے میں عیسائی اکثریتی علاقے میں واقع ایک مارکیٹ میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کام بم دھماکے میں نشانہ بننے والا سینٹ جونز چرچ کرادا کے علاقے میں واقع تھا اور اس کے قریب کھڑی ایک گاڑی میں دھماکہ ہوا۔عیسائی رہنما سعد سیروب نے تمام عراقی شہریوں کے لیے امن اور سکیورٹی کی اپیل کی ہے۔

عراق میں سال 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں متعدد گرجا گھروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد ملک میں صدیوں سے آباد عیسائی آبادی کی تعداد نصف رہ گئی ہے۔

Image caption جس بازار میں دھماکہ ہوا ہے وہاں عیسائی برادری کی اکثریت ہے

سال 2010 میں بغداد میں ہی ایک کیتھولک چرچ پر حملے کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

عراق کے وزیراعظم نورالمالکی نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ شام کا تنازع خطے میں دہشت گردی کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔

سال 2013 میں سال 2008 کے بعد سب سے زیادہ پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں جبکہ حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں صرف نومبر میں 659 افراد ہلاک ہوئے جس میں 565 عام شہری اور 94 سکیورٹی فورسز کے اہل کار شامل ہیں جب کہ جنوری سے اب تک 950 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 7150 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں