ترکی: بدعنوانی سکینڈل پر دو وزرا مستعفی

Image caption ترکی کے دو وزراء نے بدھ کے روز اپنے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے

ترکی کے دو وزرا نے اپنے بیٹوں کے بدعنوانی سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مستعفی ہونے والے وزرا میں وزیر معیشت ظفر چھالیان اور وزیر داخلہ معمر گولر شامل ہیں۔

ترکی میں بدعنوانی کے ایک معاملے میں تفتیش جاری ہے اور اس میں مجموعی طور پر 24 افراد کو ملزم قرار دیا گيا ہے جن میں سرکاری بینک کے سربراہ ہلک بینک بھی شامل ہیں۔

ظفر چھالیان نے ایک بیان میں تفتیش پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’حقارت آمیز‘ قرار دیا ہے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ ان لوگوں کے ’ہاتھ توڑ دیے جائیں گے‘ جو اس تفتیش کو استعمال کر کے ان کی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔

بدعنوانی کی تحقیقات میں وزیرِاعظم رجب طیب اردوگان کے قریبی ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر ظفر چھالیان کے بیٹے کان اور معمر گولر کے بیٹے باریس گولر نے بد عنوانی کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ان پر شہری ترقی کے ایک منصوبے اور تعمیرات کیے لیے اجازت نامہ دینے کے سلسلے میں رشوت لینے کے الزامات ہیں۔

پولیس کریک ڈاؤن کے سلسلے میں کئی پولیس کمشنروں کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان میں استنبول کے پولیس سربراہ بھی شامل ہیں۔

ایک تیسرے وزیر اردوگان بائرکتر جو ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر ہیں کے بیٹے ان افراد میں شامل ہیں جنھیں گھنٹوں پوچھ کچھ کے بعد رہا کیا گیا۔

ترکی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو حراست میں لینے اور برطرف کرنے کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اے کے پارٹی کے اندر وزیرِاعظم طیب اردوگان کے حامیوں اور امریکہ میں جلاوطن مذہبی عالم فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن کے حزمت تحریک کے اراکین پولیس جیسے قومی اداروں، عدلیہ اور اے کے پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

اسی بارے میں