امریکہ: شٹ ڈاؤن کا خطرہ ٹل گیا، مالیاتی قانون پر دستخط

Image caption صدر اوباما نے قانون پر اس وقت دستخط کیے جب وہ تعطیلات گزارنے ہوائی آئے ہوئے ہیں

امریکی صدر براک اوباما نے دو سالہ دوجماعتی وفاقی بجٹ کے قانون پر دستخط کر دیے ہیں، جس سے جنوری میں حکومت کے دوبارہ ’شٹ ڈاؤن‘ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

اس قانون کو اس ماہ کے اوائل میں دونوں ایوانوں نے بڑی بحث و تمحیص کے بعد منظور کیا تھا۔

اکتوبر میں شٹ ڈاؤن کے بعد امریکی حکومت کا کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا، جس کے بعد دونوں جماعتوں کے ارکان پر مشتمل بجٹ کمیٹی نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا تھا۔

امریکہ: شٹ ڈاؤن جاری، مذاکرات ناکام

شٹ ڈاؤن میں کس نے کیا کھویا کیا پایا؟

امریکی شٹ ڈاؤن تصاویر میں

اب کانگریس کے پاس 2014 کے مالیاتی اخراجات کا دس کھرب ڈالر کا بجٹ منظور کرنے کے لیے 15 جنوری تک کا وقت ہے۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ڈیموکریٹ اور رپبلکن پارٹی میں کسی قسم کی ہم آہنگی یا مفاہمت پیدا ہو رہی ہے۔

سینیٹ کے چار چوٹی کے رپبلکن ارکان نے اس ماہ کے اوائل میں اس قانون کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ تاہم ان کی مخالفت کی اہمیت زیادہ تر علامتی تھی، اور وہ جانتے تھے کہ یہ قانون آخرِ کار منظور ہو جائے گا۔

تاہم ایک رپبلکن رہنما نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت کے قرضہ لینے کی حد پر اگلے ماہ دوبارہ رسہ کشی شروع ہو سکتی ہے۔ اس حد میں موسمِ بہار میں اضافہ ہونا ہے۔

سینیٹ میں اقلیتی رپبلکن رہنما مچ مکانل نے کہا: ’مجھے اس بات میں شک ہے کہ ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ صدر کو قرضے کی حد بڑھانے کی کھلی چھٹی دے دیں گے۔

’یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا ایوانِ نمائندگان اس پر کوئی شرط لگانے پر اصرار تو نہیں کرتا۔‘

اس قانون سے امریکہ کے سالانہ بجٹ کے 642 ارب ڈالر کے خسارے میں سے 23 ارب ڈالر کم ہو جائیں گے۔

اس کے علاوہ اس کے باعث فوجی اور ملکی اخراجات میں 63 ارب ڈالر کی کٹوتی کا خطرہ بھی ٹل جائے گا جو جنوری میں خودکار طریقے سے نافذالعمل ہو جاتا۔

ڈیموکریٹ ارکان نے اس قانون کی حمایت کی تھی لیکن وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ اس سے 13 لاکھ امریکیوں کو ملنے والے بےروزگاری الاؤئنس میں توسیع نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں