مصر: جامعۃ الازھر کے ’دو شعبے نذرِ آتش‘

Image caption جامعۃ الازھر میں طلبا اور پولیس کے درمیان گزشتھ کافی عرصے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں

مصر کے سرکاری ٹی وی کے مطابق اخوان المسلمین کے مبینہ طور پر حامی افراد نے قاہرہ میں جامعۃ الازھر میں عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا ہے۔

پولیس نے جامعہ الازھر میں طلبا کے ساتھ لڑائی کی جہاس طلبا نے بزنس کے شعبے میں دوسرے طلبا کو امتحان دینے سے روک دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق زراعت کے شعبے کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

یہ بھی اطلاعات میں کہ اب تک 60 کے قریب طلباء کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ طلباء نے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ انھوں نے بزنس کے شعبے کو آگ لگائی۔ جہاں امتحانات کو بھی روک دیا گیا۔

تین افراد جمعے کو اس وقت ہلاک ہو گئے جب پولیس نے منیا اور نیل ڈیلٹا میں اخوان المسلمین کے حامیوں سے لڑائی کی۔

حکام نے اخوان کے حامیوں کے خلاف جولائی سے کارروائی کا آغاز کیا ہوا ہے جب اخواس سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کو فوج نے معزول کر دیا تھا۔

اخوان المسلین کے حامیوں کی تمام سرگرمیوں پر ستمبر سے پابندی لگا دی گئی ہے اور بدھ کے روز نیل ڈیلٹا کے علاقے میں پولیس کے صدر دفتر پر خود کش حملے کے بعد سے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔

Image caption جامعۃ الازھر سنی مسلمانوں کی تعلیم کی عظیم درسگاہ ہے اور یہاں حالیہ دنوں میں اسلام پسند طلبا اور پولیس کے درمیان جھرپیں ہوتی رہی ہیں

حکومت نے اخوان پر الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے جبکہ اخوان نے اس الزام کا سختی سے انکار کیا ہے۔

سب سے آخر میں فوج کی حمایت یافتہ عبوری حکومت نے اخوان المسلمین کے کئ سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا اور ان میں سے کئی پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

جامعۃ الازھر سنی مسلمانوں کی تعلیم کی عظیم درسگاہ ہے اور یہاں حالیہ دنوں میں اسلام پسند طلبا اور پولیس کے درمیان جھرپیں ہوتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں