فرانس: امراء کو 75 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا

صدر اولاندے
Image caption فرانس کی حکومت امیر ترین افراد سے زيادہ ٹیکس لے کر ملک کے معیشت کو بہتر کرنا چاہتی ہے

فرانس کی اعلیٰ عدالت نے حکومت کی اس پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ملک کے امیر ترین افراد کو اپنی آمدنی پر 75 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

امراء پر پچھہتر فیصد ٹیکس فرانس کے صدر فرانسیو اولاندے کی پالیسیوں کا اہم حصہ ہے۔

واضح رہے آج سے ٹھیک ایک برس قبل ملک کی آئینی کونسل نے اس وقت اس مجوزہ پالیسی کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

لیکن حکومت نے اس پالیسی میں ترمیم کرکے 75 فی صد ٹیکس کی ادائیگی ان افراد پر لازم کی تھی جن کی تنخواہ ایک ملین یورو سے زیادہ ہے۔

حکومت کے اس فیصلے پر اب اعلیٰ عدالت کی منظوری کے بعد امیر ترین افراد کو دو ہزار تیرہ اور چودہ کی آمدنی پر 75 فی صد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

واضح رہے اس سال کے شروعات میں فرانس کے فٹ بال کلبز نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال کی تھی۔

ان کا موقف تھا کہ فرانس کے بہت سے فٹ بال کلبز کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے اور حکومت کے اس فیصلے کے بعد بڑی تنخواہ حاصل کرنے والے فٹ بال کھلاڑی فٹ بال کلب چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ فٹ بال کلب پریس سینٹ جرمین میں دس سے زیادہ ایسے فٹ بالرز ہیں جن کی تنخواہ ایک ملین یورو سے زیادہ ہے۔ ان کھلاڑیوں میں سوئیڈن کے فٹ بال کھلاڑی لتان ابراہیمیوک بھی شامل ہیں۔

فٹ بال کھلاڑیوں کے علاوہ ملک کے بڑے صنعت کار اور امیر شخصیات نے بھی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور فلم اداکار جیرارڈ دیپاردیو اس فیصلے کے احتجاج میں ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق فرانس کے بیشتر عوام حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔

یورپ کے دیگر ممالک کے برعکس فرانس ٹیکس کی شرح میں اس طرح کے اضافے کرکے ملک کے مالی خسارے کو پورا کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ انفرادی طور پر سب سے زيادہ ٹیکس لوگ برطانیہ میں ادا کرتے ہیں جس کی شرح پینتالیس فی صد ہے۔

اسی بارے میں