سعودی عرب تین ارب ڈالر کی فوجی امداد دے گا: لبنانی صدر

Image caption لبنانی صدر کے بقول سعودی عرب کی امداد سے آخرکار لبنانی کو’ دہشت گردی‘ کا مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا

لبنان کے صدر مائیکل سلیمان کے مطابق سعودی عرب لبنانی فوج کو تین ارب ڈالر کی امداد دے گا۔

لبنان کے صدر مائیکل سلیمان نے حزب اختلاف کے رہنما اور سابق وزیر محمد شطح کی تدفین کے بعد ٹی وی پر خطاب کے دوران سعودی امداد کا اعلان کیا۔

لبنانی صدر کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے تین ارب ڈالر کی فوجی امداد کی مدد سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد ملے گی۔

’برادر ملک سعودی عرب کے بادشاہ نے لبنانی فوج کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے دریا دلی سے تین ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ میں لبنان کو دی جانے والی یہ سب سے بڑی امداد ہے اور اس کو فرانس سے ہتھیار خریدنے میں استعمال کیا جائے گا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اتوار کو سعودی عرب کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ان کا ملک لبنان کی ہتھیاروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

’میں صدر سلیمان سے رابطے میں ہوں۔۔۔ اگر ہمارے سے مطالبہ کیا گیا تو اس کو پورا کیا جائے گا۔‘

لبنانی صدر کے بقول سعودی عرب کی امداد سے آخرکار لبنانی کو’ دہشت گردی‘ کا مقابلہ کرنے کا موقع ملے گا اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خاتمہ ہو گا۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سبیسشن اوشر کے مطابق صدر سلیمان نے بالواسطہ لبنان میں ایک خطرناک ممانعت کو چھیڑا ہے۔ یعنی لبنان کی بے روک شیعہ حزب اللہ تنظیم۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ مسئلہ شدت اختیار کرے گا کیونکہ حزب اللہ شام میں صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

سعودی عرب شام میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے باغیوں کی مدد کر رہا ہے اور یہ لبنان میں مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے مارچ 14 اتحاد کی حمایت بھی کرتا ہے اور اس اتحاد کے سربراہ محمد شطح تھے جو جمعہ کو بیروت میں ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔

محمد شطح سابق لبنانی وزیرِ اعظم سعد الحریری کے مشیر تھےاور انھیں شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی حامی جماعت حزب اللہ کے سخت ناقد کے طور پر جانا جاتا تھا۔

ابھی تک کسی بھی گروہ نے جمعہ کو ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم سعد حریری نے حزب اللہ پر ان حملوں کا الزام عائد کیاہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور اس بم دھماکے کو بہیمانہ جرائم سے تعبیر کیا ہے جو ملک کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔

Image caption محمد شطح شام کے صدر بشارالاسد کے مخالف تھے

مبصرین کے مطابق شام میں جاری لڑائی کی وجہ سے لبنان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک کئی حملے بھی ہو چکے ہیں۔

لبنان کے سُنی مسلمان جنگجو شام میں حکومت مخالف باغیوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں جبکہ باغیوں کے بعض گروپ القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔

واضح رہے کہ سنہ 2005 میں رفیق حریری کی موت بھی ایک بم دھماکے میں ہوئی تھی۔

شام کے صدر بشارالاسد شیعہ اسلام کے علوی فرقے سے ہیں۔ اسی لیے لبنان کی شیعہ عسکریت پسند جماعت حزب اللہ نے اپنے جنگجو شامی حکومت کی مدد کے لیے بھیجے ہیں۔

ایران بھی حزب اللہ کا حامی ہے اور اس کے سفارتخانے کو بھی گذشتہ ماہ بیروت میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

رواں ماہ ہی حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر کو بیروت کے نواح میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔