جنوبی سوڈان: ہزاروں باغیوں کا ’بور شہر کی جانب مارچ‘

Image caption ہزاروں افراد اقوم متحدہ کے کیمپ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے آ رہے ہیں

جنوبی سوڈان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے باغی رہنما ریک ماچر کے ہزاروں حامی نوجوان سٹریٹیجک شہر بور کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔

بور شہر پر ابھی تک سرکاری فوج کا قبضہ ہے۔ یہ شہر جونگلیئی ریاست کا دارالحکومت ہے جسے حکومتی فوج نے باغیوں سے حاصل کیا ہے۔

دریں اثنا حکومت نے جنگ ختم کرنے کی پیشکش کی ہے تاہم فوج کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملک کے شمالی حصے میں ابھی بھی جنگ جاری ہے۔

جنوبی سوڈان میں دسمبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک کم از کم 1,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق جنگ کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ 21 ہزار 600 افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پرمجبور ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ جنوبی سوڈان میں جاری جنگ ریک ماچر اور صدر سلوا کیئر کے درمیان اقتدار کے حصول کی رسہ کشی سے شروع ہوئي تھی لیکن اب یہ نسلی تصادم کا روپ لے چکی ہے۔

جنوبی سوڈان میں جاری لڑائی کی وجہ سے ہزاروں افراد اقوم متحدہ کے کیمپ میں پناہ لینے کے لیے آ رہے ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے اضافی فوج کو تعینات کی جا رہا ہے۔

جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے مشن کے ایک ترجمان جو کنٹریراز نے بی بی سی کو بتایا کہ بور کی جانب مسلح نوجوانوں کا مارچ خطرناک پیش رفت ہے۔

انھوں نے کہا ’اس کی ایک پریشان کن وجہ یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو فوجی تربیت یا ڈسپلین حاصل نہیں ہے جو اس سے قبل نائب صدر کے لیے لڑنے والے فوجیوں کو رہی ہے اس لیے یہ ایک وائلڈ کارڈ کی طرح ہیں ہرچند کہ سابق نائب صدر ریک ماچر کے ساتھ ان کی وفاداری ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کے بھی شواہد نہیں ہیں کہ وہ ریک ماچر کے براہ راست حکم کے نتیجے میں بور کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بور شہر کی جانب گامزن یہ نوجوان نسلی نوئر جنگجو کا حصہ ہیں اور چونکہ کیڑے مکوڑوں سے بچنے کے لیے یہ اپنے جسم پر سفید راکھ لگاتے ہیں اس لیے انھیں سفید فوج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Image caption جنوبی سوڈان میں جاری جنگ مسٹر مچار اور صدر سلوا کیئر کے درمیان اقتدار کے حصول کی رسہ کشی سے شروع ہوئي تھی لیکن اب یہ نسلی تصادم کا روپ لے چکی ہے

اس سے قبل وزیر اطلاعات مائیکل ماکوئی لوئتھ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا تھا کہ جس قبیلے سے ریک ماچرکا تعلق ہے اس سے تقریباً 25 ہزار افراد اس مارچ میں شامل ہیں۔

لوئتھ کے مطابق مسٹر ریک ماچر نے ان نوجوانوں کو قبیلے کے نام پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دارالحکومت جوبا میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کوپنل کہ کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ واقعتا کتنے افراد بور شہر کی جانب بڑھ رہے ہیں اور وہ کون لوگ ہیں۔

واضح رہے کہ ریک ماچر جولائی میں سلوا کیئر کے ذریعے برطرف کیے جانے سے قبل ملک کے نائب صدر تھے۔

اسی بارے میں