مشرق وسطیٰ صحافیوں کا مقتل بن چکا ہے: سی پی جے

Image caption گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال صحافیوں کی اپنے فرائض انجام دینے کے دوران ہلاکتوں میں قدرے کمی آئی ہے

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے کہا ہے کہ شام میں مسلسل لڑائی، عراق میں فرقہ وارانہ حملوں اور مصر میں تشدد میں اضافے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا خطہ صحافیوں کے لیے مقتل بن گیا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ 2013 میں دنیا میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے مجموعی طور پر 70 صحافتی کارکن ہلاک ہوئے جن میں سے دو تہائی ہلاکتیں مشرق وسطیٰ میں ہوئیں۔

تنظیم کے بقول مشرق وسطیٰ میں شام صحافیوں کے لیے سب سے ہلاکت خیز رہا جہاں اس سال میڈیا کے 29 کارکن مارے گئے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے حکومتوں اور مسلح گروہوں سے کہا ہے کہ وہ خبریں جمع کرنے والوں کی شہری حیثیت کا احترام کریں اور ان سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ صحافیوں پر حملے اور انھیں ہلاک کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مدد کریں۔

ہر چند کہ رواں سال کی ہلاکتیں گذشتہ سال ہونے والی 74 ہلاکتوں سے تعداد میں کم ہیں لیکن سی پی جے کا کہنا ہے کہ وہ مزید 25 صحافیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کر رہے ہیں کہ آیا ان کی موت صحافتی فرائض انجام دینے کے دوران ہوئی ہیں۔

شام، عراق اور مصر کے علاوہ پاکستان، صومالیہ، بھارت، برازیل، فلپائن، مالی اور روس میں بھی رواں سال کئی صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان اور صومالیہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں واضح کمی آئی ہے اور میکسیکو بطور خاص اس فہرست میں سے غائب ہے کیونکہ وہاں ایسی کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئي۔

سی پی جے کے اعداد و شمار کے مطابق 44 فیصد صحافیوں کا قتل ہوا جب کہ 36 فیصد افراد لڑائی یا فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک ہو گئے۔ باقی ماندہ 20 فیصد افراد دوسرے خطرناک کاموں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے دوران صرف شام میں 29 صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے، اس طرح شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک مرنے والے صحافیوں کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔

سی پی جے کے مطابق شام میں مرنے والے صحافیوں کی کثیر تعداد بھی وہاں صحافیوں کو لاحق حقیقی خطرات کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔

Image caption پاکستان میں رواں سال صرف پانچ صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے چار کی موت بم دھماکوں میں ہوئی جبکہ پانچویں کا قتل کیا گیا

رواں سال وہاں سب سے زیادہ اغوا کے واقعات رونما ہوئے اور کم از کم 60 صحافیوں کو اغوا کیا گیا خواہ تھوڑے ہی وقفے کے لیے کیوں نہ ہو۔

عراق میں دس صحافی جبکہ مصر میں چھ صحافی اپنے فرائض کو انجام دیتےہوئے ہلاک ہوئے۔

پاکستان میں رواں سال صرف پانچ صحافی ہلاک ہوئے جن میں سے چار کی موت بم دھماکوں میں ہوئی جبکہ پانچویں کو قتل کیا گیا۔ واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل صحافیوں کی ہلاکتوں کے معاملے پر دوسرے نمبر پر رہا کرتا تھا اور سنہ 2010 کے بعد رواں سال اس ملک میں سب سے کم ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

صومالیہ میں گذشتہ سال 12 کے مقابلے اس سال چار صحافی ہلاک ہوئے ہیں۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ بعض ممالک ایسے ہیں جہاں اس بات کا تعین مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا صحافی کی ہلاکت فرائض کی انجام دہی کے دوران ہوئی؟

اسی بارے میں