وولگوگراد: دو دن میں دوسرا خودکش حملہ، 14 ہلاک

Image caption بس میں دھماکہ پیر کی صبح زیرزنسکی کے علاقے میں ہوا

روسی حکام کے مطابق ملک کے جنوبی شہر وولگوگراد میں ایک بس میں خودکش حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ اس شہر میں دو دن میں ہونے والا دوسرا ایسا حملہ ہے۔ اتوار کو شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن پر خودکش حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

وولگوگراد: ریلوے سٹیشن پر خودکش حملہ

یہ دھماکہ پیر کی صبح زیرزنسکی کے علاقے میں ایک بازار کے نزدیک ہوا۔ دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں تباہ شدہ بس اور لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

دھماکے کے بعد پولیس اور امدادی اداروں کے کارکن جائے وقوعہ پر پہنچے اور زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک اس دھماکے میں 14 افراد کی ہلاکت اور 23 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اس سے قبل جنوبی خطے کی ہنگامی حالات کی وزارت کی ترجمان ارینا گوگولیوا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق وولگوگراد میں ایک ٹرالی بس میں دھماکہ ہوا ہے جس میں دس افراد ہلاک اور دس ہی زخمی ہوئے ہیں۔‘

Image caption وولگوگراد میں ہی اتوار کو خودکش حملہ بھی ہوا تھا

ابھی تک کسی تنظیم نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

روس کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں دھماکوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

وولگوگراد ماسکو سے نو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں ماضی میں بھی شدت پسند کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

رواں برس اکتوبر میں بھی یہاں ایک خاتون خودکش بمبار نے ایک بس میں ہی دھماکہ کیا تھا جس میں چھ افراد مارے گئے تھے۔

روسی حکام کو تشویش ہے کہ سرما اولمپکس سے قبل شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ سرما اولمپکس چھ ہفتے بعد روس کے شہر سوچی میں منعقد ہوں گے۔

کریملن کے ترجمان کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر پیوتن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سکیورٹی کو مزید سخت کردیا جائے۔

رواں سال جولائی میں چیچن جنگجوؤں کے سربراہ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ سرمائی اولمپکس سے قبل زیادہ سے زیادہ حملے کیے جائیں۔

اسی بارے میں