جنوبی سوڈان: باغیوں کا اہم شہر پر حملہ

Image caption ابھی گذشتہ ہفتے کی ہی بات ہے جب ملک کی فوج باغیوں کے ہاتھ سے بور کا کنٹرول لینے کا جشن منا رہی تھی لیکن اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ باغی واپس آ گئے ہیں

جنوبی سوڈان میں حکومت مخالف باغیوں نے جنگ بندی کے معاہدے کی میعاد ختم ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ملک کے کلیدی شہر بور پر حملہ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حملہ منگل کی صبح پو پھٹتے ہی کیا گيا اور یہ حملہ اقوام متحدہ کے احاطے سے زیادہ دور نہیں ہے۔

دوسری جانب جنوبی سوڈان کی فوج کے ترجمان نے ایک ’بڑی لڑائی‘ کی تصدیق کی ہے۔

دریں اثنا یوگنڈا کے صدر نے باغیوں سے کہا ہے کہ اگر وہ منگل کا دن ختم ہونے تک جنگ بندی کے لیے راضی ہوکر گفت و شنید کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے گی۔

لیکن باغیوں کے سربراہ اور سابق نائب صدر ریئک مچار نے گفتگو کے شروع کرنے سے قبل اپنے تمام سیاسی ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیئر نے اس مطالبے کی تردید کی ہے۔

ابھی گذشتہ ہفتے کی ہی بات ہے جب ملک کی فوج باغیوں کے ہاتھ سے بور کا کنٹرول لینے کا جشن منا رہی تھی لیکن اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ باغی واپس آ گئے ہیں اور ایک اہم چوراہے کو قبضے میں لے لیا ہے۔

اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ ان حملہ آوروں میں بہت سے باغی فوجی بھی شامل ہیں جو مچار کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں زیادہ تر تعداد نسلی جنگجوؤں کی ہے جنھیں وہائٹ آرمی یعنی سفید فوج کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے جسموں پر راکھ لگاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بور شہر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ نکل گئے ہیں۔ بور شہر ریاست جونگلیئی کا دارالحکومت ہے۔

جنگ پہلے پہل دو ہفتے قبل دارالحکومت جوبا میں شروع ہوئی تھی اور یہ اب ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس میں ابھی تک کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک جبکہ سوا لاکھ کے قریب اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ریئک مچار پہلے صدر کیئر کے نائب ہوا کرتے تھے۔ ان پر تختہ پلٹنے کی سازش کا الزام ہے اور اسی کے بعد تشدد کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ جو چیز اقتدار کی جنگ کے طور پر شروع ہوئي تھی اس نے دو قبیلوں نوئر اور ڈنکا کے درمیان نسلی تشدد کا رخ اختیار کر لیا ہے۔

سوموار کو جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کيئر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ریئک مچار کے ساتھ اقتدار شیئر نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا: ’ان لوگوں نے بغاوت کی ہے۔ اگر آپ کو اقتدار چاہیے تو آپ کو بغاوت نہیں کرنا چاہیے تاکہ آپ کو اقتدار سے نوازا جا سکے۔ آپ مرحلہ وار آگے بڑھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں