’کیسے ہوتے ہیں وہ خط جن کے جواب آتے ہیں‘

Image caption زوئی نے جب یہ خط لکھا تو وہ محض دس برس کی تھیں

بحیرہ شمال میں پھینکے گئے ایک خط کا جواب 23 برس کے بعد ملا ہے۔

یہ خط ایک خاتون نے دس برس کی عمر میں ایک بوتل میں بند کر کے پھینکا تھا جو 23 سال بعد نیدر لینڈ میں ملا اور ایک جوڑے نے اس کا جواب دیا ہے۔

زوئی اویریانوف کا تعلق ہیبڈین برج سے ہے۔ انھوں نے یہ خط اس وقت سمندر میں پھینکا تھا جب وہ 12ستمبر 1990 کو چھٹیاں گزارنے بحری جہاز پر ہل سے بیلجیئم جا رہی تھیں۔

حال ہی میں کرسمس کے موقعے پر انھیں یورپ سے اس خط کا جواب ملا ہے جو ان کے والدین کے پتے پر بھیجا گیا۔

زوئی اویریانوف کا کہنا ہے کہ وہ حیران ہیں کہ ان کے پیغام نے کتنا لمبا سفر طے کیا ہے۔

زوئی اویریانوف کے نام آنے والے اس جوابی خط کے لفافے میں ان کا اپنا بھیجا گیا خط اور نیدر لینڈز کے ایک جوڑے کا جواب دونوں موجود تھے۔

زوئی اویریانوف کے خط کی تحریر کچھ یوں تھی:

پیارے خط پانے والے،

میرا نام زوئی لیمن ہے۔ کیا تم مجھے جواب دو گے، مجھے بہت اچھا لگے گا۔

’میری عمر دس سال ہے اور مجھے بیلے رقص، بانسری بجانا اور پیانو پسند ہے۔ میرے پاس ایک ہیمسٹر (چوہا) ہے جس کا نام سپارکل ہے اور ایک مچھلی ہے جس کا نام سپیکل ہے۔

20 سال بعد زوئی اویریانوف کو اس خط کا جواب کچھ یُوں ملا:

پیاری زوئی،

میں حسبِ معمول کل اپنی بیوی کے ساتھ اوسٹرشیلڈ کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا کہ سمندر کے کنارے کچرے میں مجھے ایک پلاسٹک کی بوتل ملی جس میں تمہارا پیغام تھا۔

اسی بارے میں