امریکہ میں برفانی طوفان سے نظام زندگی متاثر

Image caption برفانی طوفان جمعرات کی شام سے زیادہ شدت اختیار کرے گا

امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں میں برفانی طوفان کے بعد رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

ان علاقوں میں 14 انچ تک برف پڑ چکی ہے اور 32 ہزار پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔

نیویارک اور نیو انگلینڈ میں 72 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے برفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب امریکہ کے ہمسایہ ملک کینیڈا کے بعض علاقوں میں درجہ حرات منفی 46 تک گر گیا ہے۔

مونٹریال اور وِنی پیگ میں درجہ حرارت منفی 26 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ موسمیات کے مطابق ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں کئی انچ تک برف پڑ چکی ہے لیکن برفانی طوفان جمعرات کی شام سے زیادہ شدت اختیار کرے گا۔

محکمۂ موسمیات کے اہل کار جیسن ٹیول کے مطابق’بہت زیادہ برفباری ہو گی اور تیز ہوائیں چلیں گی، ہمیں خدشہ ہے جمعرات کی رات سے ہر طرف برف ہی برف ہو گی۔

بوسٹن میں جمعے کی صبح 12 انچ تک برفباری ہونے کی توقع ہے اور اسی طرح کی صورتِ حال ورمونٹ، نیو ہیمپشائر اور مین میں ہو گی جہاں کئی رہائشی بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں۔

نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں دس انچ تک برفباری متوقع ہے اور بعض علاقوں میں جمعے کو سکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر گھر سے باہر نکلنے سے اجتناب کریں۔

’ہم طوفان کی سنگین صورت حال کی توقع کر رہے ہیں۔‘

اسی طرح میساچوسٹس کے گورنر نے بھی غیر سرکاری ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفاتر سے جلدی گھروں کو واپس چلے جائیں اور شدید سردی کی وجہ سے باہر نہ نکلیں۔

اسی بارے میں