لبنان: شدت پسند گروپ کے کمانڈر ہلاک

Image caption ماجد الماجد کو 2012 میں القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم عبد اللہ اعظم بریگیڈ کا سربراہ چنا گیا تھا

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں القاعدہ کے کمانڈر ماجد الماجد حراست کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

لبنان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ کے ایک ذیلی گروپ عبداللہ اعظم بریگیڈ کے کمانڈر کو گذشتہ دنوں بیروت سے گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی نے فوج کے ایک جنرل کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماجد الماجد فوجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے جہاں گردے ناکارہ ہونے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

ماجد الماجد کا شمار سعودی عرب کے مطلوب ترین افراد میں سے تھا۔

ماجد الماجد کو 2012 میں القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم عبد اللہ اعظم بریگیڈ کا سربراہ چنا گیا تھا۔

سعودی عرب نے حال ہی میں لبنان کو تین ارب ڈالر کی فوجی امداد کی پیشکش کی ہے۔

لبنان کے صدر مائیکل سلیمان کے مطابق سعودی امداد سے شدت پسندی کے نمٹنے کی صلاحتیوں میں اضافہ ہو گا۔

اس بریگیڈ نے مشرق وسطیٰ میں شدت پسندی کے متعدد واقعات کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس کے علاوہ گذشتہ سال نومبر میں بیروت میں واقع ایران کے سفارت خانے پر بم حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

بیروت میں ایرانی سفارت خانے پر نومبر 2013 میں ہونے والے حملے میں کلچرل اتاشی سمیت 23 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عبد اللہ اعظم بریگیڈ کے قریبی سمجھے جانے والے ایک مولوی نے خبردار کیا ہے کہ جب تک لبنانی ملیشیا شامی فوجی کے ہمراہ باغیوں سے لڑتی رہے گی اس وقت تک لبنان میں حملے ہوتے رہیں گے۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل کے مطابق 15 دسمبر کو جنوبی شہر صیدا میں آرمی چیک پوسٹ پر ہونے والے دو حملے دراصل ماجد الماجد کو رہا کرنے کی کوشش تھی۔ چیک پوسٹ پر ہونے والے حملوں میں چار حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں