فلوجہ:گولہ باری کے بعد شہریوں کی نقل مکانی

Image caption فلوجہ میں خوراک اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے

عراق کے مغربی صوبہ الانبار کے شہر فلوجہ کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر پر عراقی فوج کی گولہ باری اور فضائی حملوں کی وجہ سے مقامی آبادی نے قریبی دیہات اور شہروں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

سنیچر کو ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا سٹریٹیجک اہمیت کا شہر فلوجہ پر حکومت کے کنٹرول باقی نہیں رہا اور اب شہر کا کنٹرول القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے پاس ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کا جنوبی حصہ ان جنگجوؤں کے مکمل کنٹرول میں ہے جبکہ باقی شہر سُنی قبائلیوں کے زیرِ اثر ہے۔

الانبار کے فوجی کمانڈر لیفٹیٹٹ جنرل رشید الفلیح نے عراق کے سرکاری ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے دو اہم شہروں فلوجہ اور رمادی سے ان جنگجوؤں کو نکالنے میں کچھ دن لگیں گے۔

بی بی سی کے احمد ماہر کے مطابق فلوجہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مشرقی، مغربی اور شمالی علاقوں کے پانچ اہم حصوں پر پیر سے عراقی فوج کا توپخانہ اور جنگی طیارے بلاامتیاز گولہ باری کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ان علاقوں سے جان کو لاحق خطرے کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فلوجہ میں خوراک اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔

عراقی فوج کی گولہ باری کا آغاز فلوجہ سے 40 کلومیٹر دور واقع شہر رمادی میں عراقی فوج کے سُنی عربوں کے ایک مظاہرے کو ختم کرنے کی کوشش کے ردعمل میں فلوجہ میں سکیورٹی فورسز کی القاعدہ سے منسلک تنظیم آئی ایس آئی ایس اور مقامی سنّی قبائل سے جھڑپوں کے بعد ہوا تھا۔

Image caption فلوجہ اور رمادی سے ان جنگجوؤں کو نکالنے میں کچھ دن لگیں گے: عراقی جنرل

سُنی قبائل وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت پر ان سے متعصبانہ رویہ رکھنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام کو جنگجو فلوجہ کی سڑکوں پر ایسی گاڑیوں میں کھلے عام گھوم رہے تھے جن پر طیارہ شکن توپیں نصب تھیں۔

سنیچر کو ہی عراقی ٹی وی چینل پر عراقی وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ’ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہ کردیں اور انبار کی عوام کو بچا نہ لیں۔‘

منگل کو وزیر اعظم نے انبار کا کنٹرول فوج سے لے کر پولیس کو دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جیسے ہی فوج کا انخلا ہوا القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے فلوجہ، رمادی اور طرمیہ میں پولیس سٹیشنوں پر دھاوا بول دیا اور قیدی رہا کروانے کے علاوہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور فوج کو دوبارہ انبار بھیجنے حکم دیا۔

جمعرات کو القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے انبار میں عمارتوں پر کالے جھنڈے لہرا دیے اور مسجدوں سے عوام کو ان کی جدوجہد میں شامل ہونے کے اعلانات کیے تھے۔

اسی بارے میں