عراق کے ساتھ ہیں لیکن فوج نہیں بھیجیں گے: کیری

Image caption یہ عراق کی اپنی جنگ ہے اور ہم عراق کے ساتھ کھڑے ہیں: جان کیری

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کا ان کا ملک عراقی حکومت کی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد کرے گا لیکن عراق میں امریکی فوج کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی شدت پسندوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

فلوجہ کا کنٹرول سُنی جنگجوؤں کے پاس

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے دورے کے بعد اردن اور سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے یہ بیان دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

وزیر خارجہ کے بقول’ ہم عراقی حکومت کے ساتھ اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو عدم استحکام کے خلاف کوشش کریں گے۔ ہم ہر وہ کام کریں گے جو ممکن ہو گا لیکن اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی اپنی جنگ ہے اور ہمارا وہاں فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔

اس سے پہلے عراقی حکومت کا کہنا تھا کہ سٹریٹیجک اعتبار سے اہم شہر فلوجہ حکومتی کنٹرول سے نکل کر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے کنٹرول میں چلا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب شدت پسندوں کا شہر پر کنٹرول ہے۔

ذرائع کے مطابق شہر کا جنوبی حصہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے کنٹرول میں ہے جبکہ ایک عراقی صحافی کا کہنا ہے کہ باقی کے شہر پر سُنی قبائلیوں کا کنٹرول ہے۔

شہر فلوجہ میں تازہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پیر کو رمادی میں عراقی فوج نے سُنی عربوں کے ایک مظاہرے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔

اس واقعے کے بعد ایک طرف تو سکیورٹی فورسز اور القاعدہ سے منسلک عراق اور لیونٹ میں اسلامک امارات (آئی ایس آئی ایس) کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور دوسری جانب سُنی قبائل اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں کا آغاز ہو گیا۔

واضح رہے کہ سُنی قبائل وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ حکومت کا سُنی مسلمانوں کی جانب معتصبانہ رویہ ہے۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام کو فلوجہ کو سڑکوں پر طیارہ شکن گن نصب گاڑیوں پر جنگجو کھلے عام پھر رہے تھے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سکیورٹی فورسز فلوجہ شہر کے چند حصوں پر شیلنگ کر رہی تھی تاکہ دوبارہ کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

عراقیا ٹی وی چینل پر عراقی وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا ’ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم تمام دہشت گردوں کا خاتمہ نہ کردیں اور انبار کی عوام کو بچا نہ لیں۔‘

Image caption سنیچر کی شام کو فلوجہ کو سڑکوں پر طیارہ شکن گن نصب گاڑیوں پر جنگجو کھلے عام پھر رہے تھے: عینی شاہدین

منگل کو وزیر اعظم نے انبار کا کنٹرول فوج سے لے کر پولیس کو دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جیسے ہی فوج کا انخلا ہوا القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے فلوجہ، رمادی اور طرمیہ میں پولیس سٹیشنوں پر دھاوا بول دیا اور قیدی رہا کروانے کے علاوہ اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔

اس واقعے کے بعد وزیر اعظم نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور فوج کو دوبارہ انبار بھیجنے حکم دیا۔

جمعرات کو القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں نے انبار میں عمارتوں پر کالے جھنڈے لہرا دیے اور مسجدوں سے عوام کو ان کی جدوجہد میں شامل ہونے کے اعلان کیے۔

گذشتہ بدھ کو اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 کے دوران عراق میں کم از کم 7818 عام شہری اور 1050 سکیورٹی اہل کار پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔صرف دسمبر ہی میں 759 لوگ ہلاک ہوئے جن میں سے 661 عام شہری تھے۔

تشدد کے واقعات میں اپریل کے بعد اس وقت اضافہ ہوا جب شیعہ مسلک سے منسلک حکومت نے ایک سنی احتجاجی کیمپ کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

اس کے بعد القاعدہ سے وابستہ شدت پسند سنی گروہوں کے حملوں میں تیزی دیکھی گئی جب کہ شیعہ تنظیموں کی جانب سے بھی جوابی کارروائیاں ہوئیں۔

اسی بارے میں