امریکہ شدید قطبی ہواؤں کی لپیٹ میں

Image caption امریکہ میں برفانی طوفان کے نتیجے میں نظام زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے

امریکہ کے کئی علاقوں میں قطب شمالی کی جانب سے آنے والی برفانی ہواؤں کی وجہ سے درجۂ حرارت ریکارڈ سطح تک گر سکتا ہے۔

امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں اور کینیڈا میں پہلے ہی دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے اور قطبی ہواؤں کی وجہ سے صورتِ حال مزید خراب ہو گئی ہے۔

بدھ سے جاری برفانی طوفان کے نتیجے میں اب تک 16 افراد ہلاک اور پانچ ہزار پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔

اتوار کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے پر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو سے آنے والا ایک ہوائی جہاز برف کے باعث پھسل گیا۔

اس واقعے کے نتیجے میں جہاز میں سوار مسافر محفوظ رہے لیکن ہوائی اڈے کو دو گھنٹے تک پروازوں کے لیے بند کرنا پڑا۔

امریکی محکمۂ موسمیات کی پیشن گوئی کے مطابق برفانی ہواؤں کے نتیجے میں ملک کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں درجۂ حرارت منفی 50 سینٹی گریڈ تک محسوس ہو گا۔

Image caption امریکہ کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 50 سینٹی گریڈ تک محسوس ہوگا

حکام نے ان علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے مدِنظر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور تاکہ سڑکوں سے برف ہٹائی جا سکے۔

دوسری جانب کینیڈا کے جزیرے نیوفاؤنڈ لینڈ میں شدید برف باری کے بعد ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں۔

یہاں شدید سرد ہواؤں کی وجہ سے درجۂ حرارت بہت کم ہو چکا ہے اور جمعرات کو ٹورنٹو میں درجۂ حرارت منفی 28 جبکہ کیوبیک شہر میں منفی 38 سینٹی گریڈ رہا جو کہ گذشتہ دو دہائیوں میں سرد ترین درجۂ حرارت ہے۔

ادارے کے مطابق کئی سالوں بعد وسط مشرقی اور وسط اٹلانٹک علاقوں میں سرد ترین موسم ہے اور سنیچر کی رات سے منگل تک ملک بھر قطبی ہواؤں کی زد میں رہے گا اور دو دہائیوں میں شدید ترین سرد موسم ہو سکتا ہے۔

آخری بار سال 1994 میں امریکہ میں قطبی ہواؤں کا برفانی طوفان آیا تھا۔

برفانی طوفان امریکی ریاست اوہائیو، جنوبی ڈکوٹا اور الی نوئے سے بھی ٹکرائے گا۔

شدید برف باری سے امریکی ریاست نیویارک، کنیٹیکٹ اور میساچوسٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ان ریاستوں میں سکول بند ہیں اور ذرائعِ مواصلات کا نظام درہم برہم ہے اور شہری اپنے گھروں میں محصور ہیں۔

اسی بارے میں