بوتلیں اکٹھی کرنے کے بدلے بیئر

نیدرلینڈز میں شراب پینے والوں کو شہر کی سڑکیں صاف کرنے کے لیے ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ انھیں اس کے بدلے میں بیئر کی صورت میں ادائیگی کی جائے گی۔

اس منصوبے کے لیے کچھ رقم حکومت نے دی ہے جب کہ باقی ایک مقامی گروہ کی جانب سے شروع کیا گیا جس میں 20 کے قریب ایسے افراد شامل ہیں جو شراب پینے والے ہیں۔

رینے شہر کی سڑکیں چھانتے اور پھینکے گئے لفافے اٹھاتے ہیں اور انھیں اس کام میں عجیب فخر محسوس ہوتا ہے حالانکہ ان کی زندگی شراب نوشی نے تباہ کر دی ہے۔

رینے نے بتایا کہ ’میرے چار بچے ہیں اور تین سابقہ بیویاں ہیں، مگر شراب نوشی نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔ میں انھیں نہیں ملتا اور وہ نہیں جانتے کہ میں کہاں ہوں یا میں زندہ بھی ہو یا نہیں۔‘

انھوں نے اپنی شراب نوشی کی عادت سے متعلق بتایا کہ ’اب میرے پاس صرف یہی ہے اور یہ میرے ساتھ گذشتہ 30 سال سے ہے، جب برا وقت ہو یا اچھا یہ میرے ساتھ ہی رہتی ہے۔‘

یہ بات کرتے کرتے ان کی محبت سے بھرپور نظر نیچے جا کر ان کے ہاتھ میں موجود ایلومینئم کے کین پر رک جاتی ہے۔

رینبو گروپ نامی ایک گروہ میں عادی شرابی شامل ہیں جو ویسے تو نجی تنظیم ہے مگر اس کی بنیادی فنڈنگ حکومت کی جانب سے آ رہی ہے۔

رینبو گروپ ایک حکومت کی امداد سے چلنے والی کمپنی ہے جو شراب یا نشے کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی مدد کرتی ہے۔ اس منصوبے میں 20 شرابی شامل ہیں جو صبح نو بجے کام پر آتے ہیں اور دوپہر تین بجے واپس چلے جاتے ہیں۔

یہ بیئر اور سگریٹ پینے اور دوپہر کا کھانا کھانے کے لیے لمبے وقفے کرتے ہیں۔

اس گروپ کو چلانے والی جینٹ وین ڈی نورڈ کا کہنا ہے کہ ’ان لوگوں کو شراب سے مکمل نجات دلانا مشکل کام ہے۔ اس کے لیے ہم نے سب طرح کی کوششیں کر دیکھی ہیں۔ اب یہی صرف ایک چیز ہے جو کام کر رہی ہے۔ ہم انھیں بہتر تو نہیں بنا سکتے مگر بہتر معیارِ زندگی فراہم کرتے ہیں اور یہ آس پاس کے معاشرے کے لیے بھی بہتر ہے کیونکہ یہ معاشرے کو کچھ واپس کر رہے ہیں۔‘

رینبو گروپ اس منصوبے کے لیے حکومتی امداد کی معین رقم کے بارے میں بتانے سے ہچکچاتے ہیں، اس ڈر سے کہ کہیں اس سے منصوبے پر منفی اثر نہ پڑ جائے۔

وین نورڈ کا کہنا ہے کہ شراب نوشی کے مسائل سے نمٹنے کا یہ سب سے کفایت بخش طریقہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر لوگوں کو حراست میں لیا جائے تو اس سے معاشرے پر اثر پڑتا ہے اور بہت سا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بہت اچھی چیز ہے اور میں نہیں سمجھتی کہ دوسرے ممالک ایسا کیوں نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

جب دوسرے شہریوں سے اس منصوبے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس کی حمایت میں بات کی۔

12 مہینے قبل جب یہ منصوبہ شروع کیا گیا تو اس کے بعد سے مقامی پولیس نے چھرا گھونپنے یا راہزنی کی وارداتوں میں بہت زیادہ کمی دیکھی ہے۔ تمام شہری جن سے ہماری بات ہوئی ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت پر خوش ہیں۔

رینبو گروپ کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کے نتیجے میں انھیں مزید امداد ملنے کی امید ہے اور نیدرلینڈز میں دوسرے شہر بھی اسی قسم کے منصوبوں کو شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ایمسٹرڈیم کے ایک انسدادِ منشیات کلینک کی فلور وین باکم کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کے منصوبوں سے ان لوگوں کو اپنی زندگی میں کچھ اور کرنے کا موقع ملتا ہے تاہم اس قسم کے منصوبوں پر نظر رکھی جانی چاہیے تاکہ نئے شرابی اس سے متاثر ہو کر اس میں شامل نہ ہوں۔ یہ کوئی شراب نوشی کا دعوت نامہ تو نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا منصوبہ ایسے شرابیوں کے لیے مناسب نہیں ہو گا جو اپنے گھر پر رہتے ہیں اور ان کے پاس ملازمت ہے۔

اپنے کام پر موجود رینے اپنے ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں جب ان کے پاس مہنگی گاڑیاں تھیں، وہ ہر جگہ آیا جایا کرتے تھے مگر ان کا اصرار تھا کہ وہ اب زیادہ خوش ہیں جب ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

رینے کا کہنا تھا کہ ’میں بیئر کے لیے اس منصوبے میں شریک ہوا تھا اگر بیئر نہیں ہوتی تو میں کیوں آتا؟‘

ان مقاصد سے قطع نظر رینے اور ان کے دوست ایک ایسے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں جہاں انھیں بالکل بے معنی سمجھا جاتا تھا۔

رینے نے اعتراف کیا: ’یہ درست ہے، یہ لوگ ہمیں کوڑا سمجھتے تھے اور اب ہم ان کا کوڑا اکٹھا کرتے ہیں، ہم اب کوڑا نہیں ہیں۔‘