’افغانستان میں پالیسی کامیاب ہو گی یا نہیں‘

Image caption رابرٹ گیٹس نے صدر جارج بش اور صدر اوباما دونوں کے ادوار میں وزیرِ دفاع کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں

امریکہ میں میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے سابق وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے صدر براک اوباما کی افغانستان میں پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔

اپنی کتاب ’اِن ڈیوٹی: میم وارز آف اے سیکریٹری آف وار‘ میں انھوں نے لکھا ہے کہ صدر اوباما کو خدشات تھے کہ ان کی افغانستان میں پالیسی کبھی کامیاب ہو بھی پائے گی یا نہیں۔

رابرٹ گیٹس کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’مجھے ان (صدر اوباما) کے ہماری فوجوں کے حامی ہونے پر کوئی شک نہیں، مگر اُن کے مشن کے حامی ہونے پر شک ہے۔‘

رابرٹ گیٹس نے صدر جارج بش اور صدر اوباما کے دور میں وزیرِ دفاع کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

وہ پہلے وزیرِ دفاع تھے جنہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے صدور کے دور میں یہ عہدہ سنبھالا۔ 2011 میں وہ اس عہدے سے دست بردار ہو گئے تھے۔

اگرچہ رابرٹ گیٹس نے اپنی کتاب میں صدر براک اوباما کو ’ذاتی صداقت‘ والا شخص بیان کیا ہے جس نے افغانستان کے بارے میں ’درست فیصلے کیے‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما صدر بش سے ورثے میں ملنے والی عراق اور افغانستان کی جنگوں کے بارے میں ’غیر مطمئن‘ تھے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر اوباما کو اپنی فوج پر بھی زیادہ اعتماد نہیں تھا جو کہ انہیں مختلف راستے بتاتی تھی۔

امریکی اخباروں کے مطابق کہ رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ مارچ 2011 میں صدر اوباما افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس پر اعتبار نہیں کرتے تھے اور اوباما کو افغان صدر حامد کرزئی سے چڑ تھی۔

مارچ 2011 میں وائٹ ہاؤس میں ایک ملاقات کے بارے میں لکھتے ہوئے سابق وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ صدر اوباما اسے اپنی جنگ تصور ہی نہیں کرتے تھے اور ان کے لیے اولین ترجیح وہاں سے نکلنا تھا۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ کتاب رابرٹ گیٹس کے معروف قدرے دھیمے اندازِ بیان سے بہت مختلف ہے اور اس میں کئی جگہ ان کے لہجے میں تلخی آ گئی ہے۔

میڈیا کے مطابق سابق وزیرِ دفاع نے اس بات پر بھی جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا کہ صدر اوباما کا وائٹ ہاؤس فوجی امور میں بہت زیادہ مداخلت کرتا تھا جبکہ اکثر سویلین مشیران کو فوجی امور کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی تھی۔

انہوں نے سویلین مداخلت کو 1970 کی دہائی میں صدر نکسن کے دور سے تشبیہ دی۔

رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ ’جیسے جیسے میں کمانڈر اِن چیف اور ان کی فوج کے درمیان رشتے کو استوار کرنے کی کوشش کر رہا تھا، صدر اور نائب صدر سمیت وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہل کاروں اور سینیئر فوجی افسران کے درمیان شک اور عدم اعتمادی میرے لیے ابتدائی دنوں ہی میں بہت بڑا مسئلہ بن گئی تھی۔‘

تاہم رابرٹ گیٹس نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرنے کے بارے میں صدر اوباما کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے وائٹ ہاؤس میں کبھی اس سے زیادہ جرات مندانہ فیصلہ ہوتے نہیں دیکھا۔‘

اسی بارے میں