تھسان ساٹھ گھنٹے بعد سمندر سے زندہ برآمد

Image caption ساٹھ گھنٹے سمندر میں بہتے رہے

تائیوان میں ایک شخص تیراکی نہ جانتے ہوئے بھی معجزانہ طور پر 60 گھنٹوں بعد گہرے سمندر سے زندہ سلامت ساحل پر واپس پہنچ گئے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 42سالہ تھسان لین فا ہالین کے شہر میں ساحل پر سمندر کی موجوں میں بہہ کر گہرے پانیوں میں چلے گئے۔

حیران کن طور پر سمندر کی لہروں پر بہتے ہوئے وہ 75 کلومیٹر دور ایک اور ساحل پر پہنچ گئے۔

تھسان لکڑی کا ایک ٹکڑا تھامے سمندر کی موجوں پر تیرتے رہے اور 75 کلومیٹر دور ساحل پر پہنچ گئے جہاں سے انھیں امدادی کارکنوں نے تلاش کر لیا۔

طبی ذرائع کے مطابق وہ پانی کی کمی کا شکار تھے اور ان کے جسم پر کچھ زخم آئے تھے۔

ایک ڈاکٹر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تھسان کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں کیونکہ بغیر پانی اور غذا کے وہ زندہ رہے۔

تھاسن نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وہ ساحل سمندر کی ایک لہر سے تو بچ گئے لیکن اس کے بعد ایک اور بڑی لہر آ گئی اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔

گہرے سمندر میں لکڑی کے ایک ٹکڑے کے سہارے تیرتے ہوئے انھیں خیال آیا کہ کشتی یا کوئی جہاز انھیں دیکھ لے اور انھیں بچا لے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے دور ساحل پر روشنیاں دکھائی دیں تو انھوں نے پانی میں ہاتھ چلانا شروع کیے۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ جب ان کے پیر ریت سے ٹکرانے لگے تو انھوں نے سکھ کا سانس لیا اور پھر سمندر کی لہروں نے انھیں ساحل پر دھکیل دیا۔

ان کی بیوی نے ان کے گھر نہ لوٹنے پر مقامی پولیس کو اطلاع کر دی تھی اور ان کی فوری طور پر تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں