انقرہ:’ترک پولیس کے 350 اہلکار برطرف‘

Image caption بدعنوانی سکینڈل کو ترک وزیراعظم کے 11 سالہ دورِ اقتدار کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق ترک حکومت نے بدعنوانی کے سکینڈل کے تناظر میں دارالحکومت انقرہ میں تعینات 350 پولیس افسران کو برطرف کر دیا ہے۔

ان برطرفیوں کے احکامات پیر کی شب جاری کیے گئے اور ان کی جگہ ابتدائی طور پر 250 افراد کی تعیناتی بھی کی گئی ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق انقرہ سے نہیں۔

بدعنوانی کی کارروائی گندہ آپریشن ہے: اردوغان

خبر رساں اے ایف پی کے مطابق برطرف کیے جانے والے افسران میں مالیاتی جرائم، سمگلنگ کی روک تھام، سائبر جرائم اور منظم جرائم کے یونٹوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

ترکی میں گذشتہ ماہ بدعنوانی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد اب تک ملک بھر میں سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو برطرف یا پھر ان کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔

اس سکینڈل کے نتیجے میں وزیراعظم طیب اردوغان کی کابینہ کے تین وزرا نے استعفے بھی دیے اور اسے ترک وزیراعظم کے 11 سالہ دورِ اقتدار کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماحولیات کے وزیر ادوغان بیراکتار، وزیرِ معیشت ظفر چالیان اور وزیرِ داخلہ معمر گولیار نے اس وقت استعفیٰ دیا جب ان کے بیٹوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

تینوں نے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے کے الزام سے انکار کیا ہے جبکہ ترک وزیراعظم نے پولیس اور عدلیہ پر اپنی حکومت کے خلاف تحقیقات کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم بدعنوانی کے اس سکینڈل کے بعد ملک کی فوج نےکہا تھا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

ترک فوج کی طرف سے بیان گذشتہ ہفتے اس وقت سامنے آیا تھا جب وزیراعظم کے ایک اتحادی نے میڈیا میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ بدعنوانی کا سکینڈل ملک میں فوجی بغاوت کروانے کی سازش کے لیے سامنے لایاگیا۔

ترکی میں فوجی بغاوتوں کی تاریخ رہی ہے لیکن تقربیاً ایک دہائی تک اقتدار میں رہنے والے رجب طیب اردوغان کے دور میں فوج کی طاقت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

ملک میں جاری بحران کی وجہ سے ترکی کی کرنسی لیرا کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گری ہے۔

ترکی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو حراست میں لینے اور برطرف کرنے کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران جماعت اے کے پارٹی کے اندر وزیرِ اعظم طیب اردوگان کے حامیوں اور امریکہ میں جلا وطن مذہبی عالم فتح اللہ گولن کے حامیوں کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ فتح اللہ گولن کی حزمت تحریک کے اراکین پولیس جیسے قومی اداروں، عدلیہ اور اے کے پارٹی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ فتح اللہ گولن نے حالیہ تحقیقات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں