برفانی ہوائیں مشرق کی طرف چل پڑیں

Image caption نیویارک اور واشنگٹن میں منگل کو درجۂ حرارت میں 45 ڈگری تک کمی کا اندیشہ ہے۔ؤں کی تنبیہ جاری کی گئی ہے

شمالی امریکہ میں چلنے والی یخ بستہ قطبی ہواؤں کا رخ اب مشرقی ریاستوں کی طرف ہوگیا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا اس وقت شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں اور کینیڈا کے صوبہ انٹاریو میں درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری تک گر گیا ہے۔

امریکہ میں برفانی طوفان سے نظام زندگی درہم برہم

امریکہ کی تقریباً آدھی آبادی کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو سرد موسم سے بچانے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کی صورت میں ان کی جلد ٹھنڈ سے منجمد ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی شمال مشرقی ریاستوں میں بسنے والے شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ یخ بستہ قطبی ہوائیں منگل کے وہاں پہنچ سکتی ہیں۔

گزشتہ رات نیویارک ریاست اور واشنگٹن ڈی سی میں درجہ حرارت منفی 15 ڈگری تک گرگیا تھا۔

نیویارک اور واشنگٹن میں منگل کو درجۂ حرارت میں 45 ڈگری تک کمی کا اندیشہ ہے۔ نیویارک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ریاست کی مرکزی شاہراہوں کے کچھ حصے شدید سرد موسم کی تیاری کے لیے بند رہیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ سرد قطبی ہوائیں جنوبی ریاست ٹیکساس ، مرکزی فلوریڈا تک پہنچ سکتی ہیں۔

امریکہ میں شدید سرد موسم کی وجہ سے سولہ افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔

موسمیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی 187 ملین آبادی سرد ہواؤں کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

امریکہ کی قومی موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ سرد موسم کی وجہ سے ملک کے زرعی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب سردی کا اثر جنوب میں ٹیکسس اور وسطی فلوریڈا تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔

قومی موسمیاتی سروس نے ایک بیان میں اسے ’کئی برسوں کا سرد ترین موسم‘ قرار دیا۔ حکام نے ریاست ٹینیسی اور کینٹکی میں بھی کئی انچ برف پڑنے کی پیشن گوئی ہے جبکہ اوہائیو، جنوبی ڈکوٹا اور الی نوئے کی ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔

امریکہ میں اب تک 16 افراد اس انتہائی سرد موسم اور برفانی طوفان کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

مونٹینا کے علاقے کومر ٹاؤن میں پیر کو کم سے کم درجۂ حرارت منفی 53 سنٹی گریڈ جبکہ ریاست منی سوٹا میں منفی 48 سنٹی گریڈ تک محسوس کیا گیا۔

Image caption برفانی طوفان کی وجہ سے نظامِ آمد و رفت بری طرح متاثر ہوا ہے

خیال رہے کہ اس وقت قطب جنوبی اور روس کے انتہائی سرد علاقے سائبریا میں درجۂ حرارت منفی 33 سنٹی گریڈ ہے۔

منی سوٹا سمیت متعدد امریکی ریاستوں میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی رہیں۔

الی نوئے کے گورنر پیٹ کوئن نے پیر کو طوفان کے بارے میں کہا کہ یہ ’تاریخی‘ ہے۔ سی این این کے مطابق ریاست کے سب سے بڑے شہر شکاگو میں بھی موسم اتنا سرد تھا کہ شہر کے چڑیا گھر میں موجود قطبی برفانی ریچھوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔

شہر کے عوامی باغات بھی بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد ہوا کی وجہ سے لوگ ’فراسٹ بائٹ‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

منیئیپلس میں ایک ہسپتال میں شعبہ حادثات کے ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہوں نے حفاظتی کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگوں میں بھی ’فراسٹ بائٹ‘ کے واقعات دیکھے ہیں۔

ادھر کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں درجۂ حرارت منفی 28 جبکہ کیوبیک شہر میں منفی 38 سینٹی گریڈ تک گرا جو کہ گذشتہ دو دہائیوں میں سرد ترین درجہ حرارت ہے۔ اس کے علاوہ مونٹریال اور وِنی پیگ میں درجہ حرارت منفی 26 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں