دلی: ’امریکی سفارتخانے میں کلب بند کیا جائے‘

Image caption دیویانی كھوبراگڑے کو 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا

بدھ کے روز بھارت نے دلی میں امریکی سفارتخانے کو تنبیہ کی ہے کہ سفارتخانے میں موجود کلب سفارتی قوانین کے خلاف ہے کیونکہ اس میں عام شہری جا سکتے ہیں، اسی لیے اس کلب کو بند کیا جائے۔

بھارتی حکام نے امریکی سفارتخانے کے عملے سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بھارتی ٹریفک کے قوانین کا احترام کریں۔

یہ اقدامات حال ہی میں امریکہ میں بھارتی سفارتکار دیویانی كھوبراگڑے کے خلاف امریکہ حکام کی کارروائی کے نتیجے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان پیش آنے والے ایک سفارتی تنازعے کی کڑی ہیں۔

بھارتی سفارت کار دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت ادا نہیں کر رہی تھیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

بھارت نے اس سلسلے میں امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے متعدد احتجاجی اقدامات کیے ہیں۔ دلی میں امریکن سنٹر کو فلموں کی نمائش سے روک دیا گیا ہے۔

Image caption بھارت میں امریکہ کے ان اقدامات کے حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

اس کے علاوہ سفارتخانے کے گرد موجود ٹریفک کی رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں اور چند امریکی سفارتکاروں کے شناختی کارڈ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسی آف انڈیا نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ بھارت نے امریکی حکام سے 16 جنوری تک ’امریکن کمینٹی اسوسی ایشن کلب‘ میں تمام ’کمرشل کارروائیاں‘ معطل کرنے کے لیے کہا ہے۔ اس کلب میں ایک ریٹورانٹ، ایک بار، ایک سوئمنگ پول اور ایک بولنگ ایلی ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ چونکہ غیر سفارتکار اس کلب کی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں، اسی لیے یہ سفارتی تعلقات کے لیے ویئینا کنوینشن کی خلاف ورزی ہے۔

واشنگٹن میں امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی سفارتکار دنیا بھر میں مقامی قوانین کا احترام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم بھارت کی جانب سے لائحہِ عمل کی درخواست پر غور کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک معاملے کو جلد از جلد حل کرنا چاہتے ہیں۔

نیویارک کی عدالت میں پیش کیے گئی دستاویزات کے تحت بھارتی سفارت کار نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں لکھا تھا کہ انھیں امریکہ میں ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انھیں صرف 573 ڈالر دیے جا رہے تھے۔ یہ تنخواہ امریکہ میں کم سے کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی ہے جب کہ جھوٹ بولنے پر ان کو مزید پانچ سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا تھا کہ امریکہ میں بھارتی سفارت کار ’دیویانی كھوبراگڑے کو بحفاظت ملک واپس لانے کی ذمہ داری میری ہے اور میں انھیں واپس لا کر دكھاؤں گا۔‘

اسی بارے میں