صبرا اور شتیلا قتلِ عام سے ہسپتال تک

Image caption اسرائیل کا شاید کوئی اور ایسا رہنما نہ ہو جسے اتنا ہی پیار ملا جتنی نفرت

کئی دہائیوں کی فوجی اور سیاسی قیادت کرنے کے بعد اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایریئل شیرون اسرائیل کی کامیاب ترین اور متنازع ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔

میدانِ جنگ میں ان کے اقدامات اور بعد میں سیاسی پس منظر میں ان کی پالیسیوں نے اسرائیل کی موجودہ شکل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر اکثر ان کے بارے میں رائے انتہائی منقسم رہی ہے۔

اسرائیل کا شاید کوئی اور ایسا رہنما نہ ہو جسے اتنا ہی پیار ملا جتنی نفرت۔

ان کی زندگی کا مقصد اسرائیل کی سیکیورٹی کو اپنی شرائط پر یقینی بنانا تھا چاہے اس کے لیے انھیں سیاسی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

ایریئل شرون مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کے شدید حامی تھے مگر ان کے آخری اقدامات میں سے ایک، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کی واپسی نے ان کے مداحوں کو حیران کر دیا۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا کیریر اچانک اس وقت ختم ہو گیا جب متعدد سٹروکس کی وجہ سے وہ کومے میں چلے گئے۔

ایریئل شیرون سنہ 1928 میں فلسطین میں پیدا ہوئے جب یہ علاقہ برطانوی کنٹرول میں تھا۔

اپنی نوجوانی میں انھوں نے خفیہ یہودی مسلح تنظیم ہگانا میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 1948-49 کی عرب اسرائیل جنگ میں بطور پلٹون کمانڈر شرکت کی۔

سنہ 50 کی دہائی میں انھوں نے یونٹ 101 نامی ایک خصوصی دستے کی قیادت کی جس کا کام فلسطینی مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرنا تھا۔

ایریئل شیرون نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک ملک کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور اسی لیے انھیں ایک نڈر فوجی اور بہترین عسکری منصوبہ ساز تصور کیا جاتا تھا۔

سنہ 1956 میں سوئز جنگ میں انھوں نے پیراٹروپرز کی ایک بریگیڈ کی قیادت کی اور میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔

جون سنہ 1967 کی جنگ میں ایریئل شیرون صحرائے سینا میں ایک ڈویژن کی قیادت کر رہے تھے اور مصری فوج کے خلاف ان کی کامیابی نے اسرائیل کے سینا جزیرہ نما پر مکمل قبضے میں اہم کردار ادا کیا۔

چھ سال بعد جب مصر اور شام نے اسرائیل پر دوبارہ حملہ کیا تو شرون کی ڈویژن نے مصر کی تھرڈ آرمی کو صحرائے سینا میں روک دیا جس کی وجہ سے جنگ کا نقشہ پلٹ گیا اور اسرائیل کو کامیابی حاصل ہوئی۔

دو ماہ بعد ایریئل شیرون ایک نئی دائیں بازو کی لیکود پارٹی کے ٹکٹ پر اسرائیلی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تاہم اگلے سال ہی انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابین کا مشیر برائے سکیورٹی بننے کے لیے رکنیت چھوڑ دی۔

ایریئل شیرون سنہ 1977 میں دوبارہ اسرائیلی پارلیمان کا حصہ بنے اور سنہ 1981 میں وزیرِ دفاع۔

یاسر عرفات کی پی ایل او کی جانب سے جنوبی لبنان سے شمالی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے بعد سنہ 1982 میں ایریئل شیرون نے ہمسایہ ملک پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔

انھوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم کو مطلع کیے بغیر ہی اسرائیلی فوج کو بیروت تک بھیج دیا۔ اس کارروائی کے بعد پی ایل او کو لبنان سے نکال دیا گیا۔

Image caption ایریئل شیرون سنہ 1977 میں وہ دوبارہ اسرائیلی پارلیمان کا حصہ بنے اور سنہ 1981 میں وزیرِ دفاع

اس اقدام سے پی ایل او کو تو لبنان چھوڑنا پڑا مگر اس کارروائی کی وجہ سے اسرائیل کے زیرِ انتظام فلسطینی پناہ گزینوں کے دو کیمپوں میں لبنانی عیسائی مسلح افراد نے سینکڑوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا۔

صبرا اور شتیلا قتلِ عام کے نام سے جانے جانے والے ان واقعات کی وجہ سے ایریئل شیرون سے فلسطینی عوام نفرت کرنے لگے۔

سنہ 1983 میں ایک اسرائیلی ٹرائبیونل نے سنہ 1982 کے حملے کی تحقیقات کرتے ہوئے ایریئل شیرون کو قتلِ عام کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا اور انھیں عہدے سے ہٹا دیا۔

اسرائیلی دائیں بازو کی جماعتوں میں ایریئل شیرون مقبول رہے اور متعدد حکومتوں میں انھوں نے اہم عہدے سنبھالے۔

ایریئل شیرون یہودی بستیوں کے شدید حامی رہے اور سنہ 1990 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں وزیرِ ہاؤسنگ رہے۔ اسرائیل کے سنہ 1967 میں فلسطینی علاقوں پر قبضہ کے بعد سے سب سے زیادہ یہودی بستیوں کی آباد کاری اسی دور میں ہوئی۔

بینیامن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت جب سنہ 1996 میں برسرِ اقتدار آئی تو انھوں نے ایریئل شیرون کو کابینہ کا حصہ بنا لیا۔

سنہ 1998 میں انھیں وزیرِ خارجہ بناتے وقت وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا کہ شیرون اس عہدے کے لیے بہترین شخص ہیں۔

انہوں نے کہا ’ہمیں ماضی کے مسائل کو چھوڑ دینا چاہیے۔ شیرون کا عوامی زندگی سے ایک ریکارڈ ہے اور گذشتہ 15 سال کے دوران اس پر لوگوں کو فخر ہونا چاہیے۔‘

نیتن یاہو کی سنہ 1999 میں شکست کے بعد ایریئل شیرون حزبِ اختلاف میں لیکود پارٹی کے سربراہ بن گئے۔

سنہ 2000 میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایریئل شیرون نے وزیراعظم ایہود براک کے خلاف عوام مہم چلائی اور الزامات لگائے کہ وزیراعظم امن معاہدے کے لیے یروشلم پر بھی سمجھوتا کر سکتا ہے۔

فروری سنہ 2001 میں ایریئل شیرون ایک بڑے فرق سے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور انھوں نے ’سیکیورٹی اور حقیقی امن‘ کا وعدہ کیا۔ اس کے علاوہ ان کا اصرار تھا کہ وہ فلسطینیوں سے ماضی کے مذاکرات کے طابع نہیں ہوں گے۔

انھوں نے غزہ کی پٹی اور غربِ اردن سے پانچ یہودی بستیوں کو خالی کر دیا مگر ساتھ کہا کہ اب مزید یک طرفہ انخلا نہیں ہوگا۔

لیکود پارٹی میں غزہکی پٹی سے یہودی بستی کے انخلا کی مخالفت کی وجہ سے ایریئل شیرون نے نومبر سنہ 2005 میں پارٹی چھوڑ دی اور پارلیمان تحلیل کر دی اور قدیمہ نامی پارٹی قائم کی۔

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایریئل شیرون دوبارہ وزارتِ عظمیٰ حاصل کر لیں گے مگر 2006 میں انھیں پہلا سٹروک ہوا جس کے بعد وہ کھبی بھی مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں