متحدہ عرب امارات میں قید امریکی شہری کی وطن واپسی

متحدہ عرب امارات میں قید کی سزا پانے والے ایک امریکی شہری اپنے وطن واپس لوٹ گئے ہیں۔29 سالہ شیزان قاسم نے دبئی کے معاشرے میں نوجوانوں کے بارے میں افسانوی ویڈیو بنائی تھی جس کے بارے میں عدالت کا کہنا تھا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔

شیزان قاسم جمعرات کو امریکہ واپس پہنچے ہیں۔ 2012 میں وہ اور ان کے سات ساتھیوں کو متحدہ عرب امارات کے سائیبر قوانین کے تحت سزا سنائی گئی تھی۔

اپریل میں گرفتار ہوئے اور ایک سال قید کی سزا پانے والے قاسم کو اطلاعات کے مطابق جیل میں اچھے رویے کی وجہ سے جلدی چھوڑا گیا ہے۔

شیزان قاسم 2006 میں ملازمت کے سلسلے میں دبئی گئے تھے۔ انہوں نے اکتوبر 2012 میں ’ستوا کامبیٹ سکول‘ نامی ایک 19 منٹ کی ویڈیو میں شرکت کی تھی جسے یو ٹیوب پر شائع کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو کے آغاز میں ایک پیغام وضاحت کرتا ہے کہ ’دیکھائے گئے واقعات افسانوی ہیں اور پیشکاروں کا متحشہ عرب امارات یا ستوا کے لوگوں کو دکھ پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

یہ ویڈیو ایک افسانوی دستاویزی فلم ہے جس میں ایک خیالی سکول دیکھایا گیا ہے جہاں نوجوانوں کو بطور ہتھیار سینڈل کا استعمال اور مشکل حالات میں سماجی روابط کی ویب سائٹوں پر مدد مانگنے کی تربیت دی جاتی ہے۔

شیزان قاسم کے ساتھ دو دیگر امریکی شہری، دو بھارتی، دو اماراتی اور ایک برطانوی اور ایک کینیڈا کے شہری کو اس ویڈیو کے حوالے سے سزائیں دیں گئیں تھیں۔

اطلاعات کے مطابق ان پر آرٹیکل 28 کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی گئی جس کے مطابق آئی کے استعمال سے ایسی مچلومات کا پھیلاؤ جرم ہے جو ریاست کے مفادات کے خلاف ہوں یا عوامی امن کو خطرہ لاحق کریں۔

قاسم کی گرفتاری کے بعد ان کے خاندان والوں نے ان کی حراست کو میڈیا میں اٹھایا۔

ان کے خاندان کی وکیل سوزن برنز نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ گذشتہ نو ماہ میں کس اذیت سے گزرے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اسے مل سکیں گے یا نہیں یا کب مل پائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اب ان کا خاندان ان کی واپسی پر انتہائی خوش ہے۔

اسی بارے میں