دیویانی کو سفارتی استثنیٰ حاصل، بھارت روانہ

Image caption دیویانی كھوبراگڑے کو 13 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا

امریکہ میں ویزا فراڈ اور اپنی نوکرانی کو انتہائی کم اجرت دینے کے الزام میں گرفتار ہونے والی بھارتی سفارتکار دیویانی کھوبرا گڑے وطن واپس لوٹ آئی ہیں۔

اس سے قبل ان کے خلاف فردِ جرم تو عائد کر دی گئی تھی تاہم انھیں مکمل سفارتی استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

وکیل استغاثہ نے کا کہنا تھا کہ سفارتی استثنیٰ ملنے کے بعد امریکی وزارتِ خارجہ نے ان سے ملک چھوڑنے کو کہا ہے۔

دیویانی کھوبرا گڑے نے بھارت روانگی سے قبل کہا کہ وہ بے گناہ ہیں اور وہ یہ سچ سب کو بتانا چاہتی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’امریکہ نے ایک دوست ملک ہونے کے ناطے بھارت کی جانب سے دیویانی کھوبراگڑے کو استثنیٰ دینے کی درخواست منظور کی ہے۔ جس کے بعد امریکہ نے بھارت سے کہا تھا وہ خود اس استثنٰی کو ختم کرے تاکہ امریکہ کھوبراگڑے کے خلاف مقدمے کی کارروائی کر سکے۔ تاہم بھارت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔‘

اہل کار کے مطابق بھارت کے انکار کے بعد امریکہ نے دیویانی کھوبراگڑے سے امریکہ چھوڑنے کی درخواست کی۔

دیویانی کھوبراگڑے کا تبادلہ دہلی کر دیا گیا ہے اور وہ بھارت لوٹ آئی ہیں تاہم ان کے شوہر اور بچے ابھی امریکہ ہی میں ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے اہل کار کے مطابق چونکہ دیویانی کے شوہر امریکی شہری ہیں اس لیے یہ معاملہ ابھی پوری طرح سے ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

بھارتی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ بھارتی سفارتکار بھارت کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔

دیویانی كھوبراگڑے کو ان کی نوکرانی سنگیتا رچرڈز کی طرف سے شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اُن پر الزام تھا کہ وہ اپنی گھریلو ملازمہ کو قانون کے مطابق اجرت نہیں ادا کر رہی تھیں۔

بھارت اپنی خاتون سفارت کار کو گرفتاری کے بعد ہتھکڑی لگانے، ان کی برہنہ تلاشی اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر امریکہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

بھارت نے اس سلسلے میں امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے متعدد احتجاجی اقدامات کیے ہیں۔ دلی میں امریکن سنٹر کو فلموں کی نمائش سے روک دیا گیا ہے۔

نیویارک کی عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کے تحت بھارتی سفارت کار نے اپنی ملازمہ کی ویزا درخواست میں لکھا تھا کہ انھیں امریکہ میں ساڑھے چار ہزار امریکی ڈالر کی تنخواہ دی جائے گی جبکہ انھیں صرف 573 ڈالر دیے جا رہے تھے۔ یہ تنخواہ امریکہ میں کم سے کم تنخواہ کے قانون کی خلاف ورزی ہے۔

بھارتی سفارت کار نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

اگر بھارتی سفارت کار پر جرم ثابت ہو جاتا تو انھیں ویزا دستاویزات میں فراڈ کے جرم میں دس سال کی سزا سنائی جا سکتی تھی جب کہ جھوٹ بولنے پر ان کو مزید پانچ سال کی سزا ہو سکتی تھی۔

اسی بارے میں