اسرائیل: غربِ اردب میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان

Image caption ماضی میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بھی یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ تھا

اسرائیل نے غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں 1400 مکانوں پر مشتمل نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام گذشتہ ماہ 26 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد متوقع تھا تاہم اسے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہِ مشرقِ وسطیٰ کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

فلسطینی امن مذاکراتکار سائب ارکات کا کہنا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل امن کی کوششوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔

جولائی میں جان کیری کی کوششوں سے شروع ہونے والے دونوں اطراف کے براہِ راست مذاکرات میں پیش رفت کے کم اثار نظر آئے ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کی بڑی وجہ بھی یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ تھا۔

غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر 1967 سے اسرائیلی قصبے کے بعد 100 سے زیادہ یہودی بستیاں تعمیر کی جا چکی ہیں جن میں پانچ لاکھ سے زیادہ یہودی رہتے ہیں۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق یہ بستیاں غیر قانونی ہیں تاہم اسرائیل اس بات سے انکار کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خزانہ یائر لپد نے اپنی ہی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے امن مذاکرات اور بھی پیچیدہ ہو جائیں گے اور یہ ایک غلطی ہے۔

یائر لپد نے ایک اسرائیلی ویب سائٹ کو بتایا کہ ’ہر انداز میں دیکھیں تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا ہمارے لیے صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔‘

Image caption اسرائیلی وزیرِ خزانہ یائر لپد نے اپنی ہی حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے

جمعے کے روز اسرائیل کے وزیر برائے ہاؤسنگ نے غربِ اردب میں 801 ہاؤسنگ یونٹس اور مشرقی یروشلم میں 600 یونٹس کی تعمیر کے ٹھیکوں کا اعلان کیا۔

وزارتِ ان 532 مکانات کے ٹھیکے کا بھی العان کیا جو کہ اس سے پہلے بننے تھے تاہم ان کے لیے ٹھیکے دار نہیں مل سکے تھے۔

بستیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ’پیس ناؤ‘ نے بتایا ہے کہ براہِ راست مذاکرات کے آغاز سے اب تک اسرائیل 5439 مکانات کی تعمیر کا اعلان کر چکا ہے۔

پیس ناؤ کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ’ان تازہ ترین ٹھیکوں کے اعلان سے مذاکرات ناکام ہوسکتے ہیں اور جان کیری کی کوششیں رائئگاں جا سکتی ہیں۔‘

پی ایل او کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور فلسطین کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کے سربراہ سائب ارکات کہتے ہیں کہ اسرائیل کھلے عام اپنا ایجنڈا دیکھا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل کی جانب سے اس موقعے پر مزید بستیاں تعمیر کرنے کا اعلان امریکی انتظامیہ کی اسرائیل سے احتساب کرنے کے لیے ایک امتحان ہے۔‘

اسی بارے میں