کینیا: فضائی حملے میں 30 شدت پسند ہلاک

Image caption شدت پسند تنظیم الشباب القاعدہ سے منسلک ہے اور وہ وہاں سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے

کینیا کا کہنا ہے کہ اس نے ایک فضائی حملے میں شدت پسند تنظیم الشباب کے کمانڈروں سمیت 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

یہ حملہ کینیا اور ایتھیوپیا کی سرحد کی قریب کیا گیا ہے۔

صومالیہ کی تنظیم ’الشباب‘ کیا ہے؟

نیروبی: ’حملہ آوروں میں امریکی، برطانوی شامل تھے‘

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق اس حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حملے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

کینیا کے ہزاروں فوجی صومالیہ میں موجود ہیں۔ وہ الشباب کے خلاف لڑائی میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظیم الشباب القاعدہ سے منسلک ہے اور وہ وہاں سخت گیر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

عسکریت پسندوں نے کہا تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ایک شاپنگ سنٹر میں کینیائی فوج کی صومالیہ میں موجودگی کی وجہ سے حملہ کیا تھا۔ اس میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کینیا کی دفاعی فوج نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ فضائی حملے میں شدت پسندوں کی کم سے کم پانچ گاڑیاں اور دوسرے اہم اثاثے تباہ ہو گئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے کمانڈروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق الشباب کے رہنما مختار علی زبیر المعروف احمد گوڈین فضائی حملے سے 30 منٹ قبل وہاں سے نکل گئے تھے۔

الشباب نے تاحال اس حملے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیاہے۔

اسی بارے میں