سعودی عرب: جرمن سفارت کاروں پر فائرنگ

Image caption شیعہ اکثریتی ساحلی ضلع قطیف میں حالات سنہ 2011 سے کشیدہ رہے ہیں

سعودی عرب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے دو سفارت کاروں کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کا کہنا ہے کہ دونوں سفارت کار پیر کی شام عوامیہ نامی قصبے میں پیش آنے والے اس واقعے میں محفوظ رہے تاہم ان کی گاڑی جل گئی۔

ایس پی اے نے پولیس کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ترجمان نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برلن میں جرمن وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔ گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس سے اس میں آگ لگ گئی تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں جرمن سفارت خانے نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خیال رہے کہ عوامیہ نامی جس قصبے میں یہ واقعہ پیش آیا ہے وہ شیعہ اکثریتی ساحلی ضلع قطیف میں واقع ہے اور یہاں 2011 سے حالات کشیدہ رہے ہیں۔

سعودی عرب کی شیعہ آبادی ملکی حکومت پر امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کرتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق قطیف میں حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے شیعہ افراد پر فائرنگ کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں جن میں کم از کم 20 افراد مارے گئے۔

2012 میں سعودی حکومت نے ملک کے مشرقی صوبے سے 23 شیعہ افراد کو حراست میں لینے کے احکامات دیے تھے اور ان پر ملک میں بےچینی پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان 23 افراد میں سے اب صرف 9 مفرور ہیں جبکہ باقی یا تو پکڑے گئے یا پھر ہلاک کر دیے گئے۔

اسی بارے میں