کینیڈا: فحش مواد رکھنے پر نابالغ لڑکی پر جرم ثابت

Image caption نابالغ افراد میں موبائل فون کے غیر محتاط استعمال سے کئی اخلاقی اور قانونی مسائل نے جنم لیا ہے

کینیڈا میں ایک نابالغ لڑکی کو بچوں کی فُحش تصاویر رکھنے اور انھیں پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

اس لڑکی کی عمر اس جرم کے ارتکاب کے وقت 16 برس تھی۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کی سابقہ گرل فرینڈ کی عریاں تصاویر ٹیکسٹ کے ذریعے دوسروں کو بھیجی تھیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ان تصاویر کو بھیجنے کا مقصد دوسری لڑکی کو بدنام اور ہراساں کرنا تھا۔ وکیل دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

نابالع لڑکی پر ’دھمکیاں‘ دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔

برٹش کولمبیا کے علاقے وکٹوریہ میں سی ٹی وی نیوز سے بات کرتے ہوئے مقدمے کے جج کا کہنا تھا کہ یہ پیغامات ’غیر مہذب‘ تھے۔

جج نے کہا کہ ’یہ تصاویر بچوں سے متعلق فحش مواد کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

اس مقدمے میں تین تصاویر اور ایسے پیغامات پر غور کیاگیا۔ استغاثہ کی وکیل کا کہنا تھا کہ ’ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کس قسم کی تصاویر کھینچ رہے ہیں اور آپ کس کو کیا بھیج رہے ہیں۔‘

’(نابالغوں) کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کو کیا بھیج رہے ہیں اور وہ کس کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔‘

چندرا فشر کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی کیس ہے اور اس سے مثال قائم ہو سکتی ہے۔ وکیل دفاع کرسٹفور میکی کا کہنا تھا کہ وہ آئینی بنیادوں پر اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

انھوں نے عدالت سے کہا کہ ایسے نابالغ افراد کو جو ’سیکسٹ‘ کرتے ہیں، بچوں سے متعلق فحش مواد بھیجنے کا مجرم قرار دینا غیر آئینی ہے کیونکہ بالغ افراد کے لیے ’عریاں تصاویر‘ بھیجنا قانونی ہے۔

وکیل دفاع نے سی بی سی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بچوں سے متعلق فحش مواد کے قوانین بچوں کے تحفظ کے لیے ہیں نہ کہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے۔‘

اسی بارے میں