جوہری معاہدہ طویل اور مشکل راستے کا آغاز ہے: ایران

Image caption ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین تمام تصفیہ طلب معاملات جمعہ کو طے پا گئے تھے

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظريف نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں سے طے پانے والا عبوری معاہدہ ایک طویل اور مشکل راستے کا نقطۂ آغاز ہے۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے امریکی کانگریس سے ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو موقع دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا وقت نہیں ہے۔

معاہدے پر اسرائیل، عرب ریاستیں پریشان

معاہدے سے اہم مذاکرات کی بنیاد

ایران چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری سرگرمیاں محدود کرنے سے متعلق گذشتہ برس نومبر میں طے پانے والے عبوری معاہدے پر آئندہ پیر سے عمل درآمد شروع کر رہا ہے جس کے بدلے میں اس پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں گی۔

معاہدے کے تحت ایران نے اپنے افزودہ یورینیئم کے ذخیرے میں کمی کرے گا اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات تک رسائی دے گا اور اس کے بدلے میں پابندیوں میں بتدریج کمی کی جائے گی جس سے اسے سات ارب ڈالر کا فائدہ ہو گا۔

پیر کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک اجلاس کے دوران بی بی سی سے بات چیت میں محمد جواد ظريف نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد قائم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا: ’جنیوا میں ہمارے درمیان جس معاہدے پر اتفاق ہوا وہ اس معاملے (ایرانی جوہری پروگرام) پر ایک طویل اور مشکل راستے کا آغاز بھی ہے۔‘

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا نے ان کے ملک کے پرامن جوہری پروگرام کو مکمل طور پر غلط سمجھا ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ عبوری معاہدہ بداعتمادی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا: ’یہ بداعتمادی کے خاتمے اور یقین میں اضافے کی کوشش ہے، خاص کر ایران میں، کیونکہ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان اعتماد کی بہت کمی ہے۔‘

دریں اثنا پیر کو ہی وائٹ ہاؤس میں ہسپانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ سفارت کاری اور امن اور ایک اور موقع دیا جائے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ’میری ترجیح امن اور سفارت کاری ہے اور یہ ہمارے لیے نئی پابندیاں لگانے کا وقت نہیں ہے۔‘

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ بیس جنوری سے ایران کی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے متعلق عبوری معاہدے پر عمل درآمد عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے حتمی معاہدے کے لیے وقت اور موقع فراہم کرے گا۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ’یہ ایک مشکل عمل ہوگا اور یہ ایک چیلینج بھی ہوگا لیکن حتمی طور پر سفارت کاری کا یہی کام ہے۔‘

براک اوباما کا کہنا تھا کہ ’اگر ایران اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے جو ہم نے اسے دیا ہے تو اس سے اسے اور اس کے عوام کو فائدہ پہنچے گا اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ عبوری معاہدے کو ختم کریں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید دباؤ ڈالیں کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔‘

خیال رہے کہ 20 جنوری سے ایران پہلی بار اعلیٰ افزدہ یورینیئم کے ذخائر کو ختم کرنا شروع کرے گا اور چند ایسی تنصیبات کو ختم کرے گا جہاں پر اس قسم کا یورینیئم افزدہ کیا جا سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ جاری بات چیت کی سربراہی کرنے والی یورپی یونین کی اعلیٰ عہدیدار کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ:’ہم نے جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے ( آئی اے ای اے) سے کہا ہے کہ وہ جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور تصدیق کے لیے ضروری اقدامات کرنے شروع کرے۔‘

جمعے کو ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے نائب وزیر وزیر خارجہ کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین تمام تصفیہ طلب معاملات طے پاگئے ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی کے منتخب ہونے کے بعد ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز رہے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ اِس معاہدے کی رو سے ایران یورینیئم کی افزودگی کا پروگرام جاری رکھ سکے گا۔

عالمی طاقتیں ایران پر الزام لگاتی ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

اسی بارے میں