’مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور تشدد میں اضافہ‘

Image caption 110 ممالک میں عیسائیوں، 109 میں مسلمانوں جبکہ 77 میں یہودیوں کو جارحانہ رویے کا سامنا رہا: پیو

ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکہ کے سوا دنیا کے تمام خطوں میں مذہب کی بنیاد پر سماجی نفرت اور پابندیوں نے نئی بلندیوں کو چھوا ہے اور حکومتوں اور مخالف عقیدے کے لوگوں کے ہاتھوں مختلف مذاہب کے ماننے والے لوگوں کے خلاف تشدد اور امتیاز میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کے 25 سب سے زیادہ آبادی والے ملکوں میں سے پاکستان، مصر، انڈونیشیا، روس اور برما میں لوگوں کو حکومت اور مخالف عقیدے کے گروہوں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر سب سے زیادہ پابندیوں اور تشدد کا سامنا ہے۔

امریکی تجزیاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں دنیا کے 198 ممالک میں سنہ 2007 سے سنہ 2012 تک کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر میں حکومتوں اور مخالف عقیدے کے گروہوں کے ہاتھوں مذہب کی بنیاد پر روا رکھے جانے والے امتیاز، عناد، پابندیوں اور تشدد کا جائزہ لیا گیا ہے اور 198 ملکوں کو انتہائی بلند، بلند، معتدل اور کم شرح کے چار درجوں میں بانٹا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں کے دوران دنیا کے 43 فیصد ملکوں میں عقیدے کی بنیاد پر سماجی مخاصمتوں کی سطح بلند یا انتہائی بلند پائی گئی ہے جبکہ 2007 میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف عناد کی بلند یا انتہائی بلند شرح دنیا کے 29 فیصد ملکوں میں پائی جاتی تھی۔

اس رپورٹ میں مذہبی گروہوں کے خلاف تشدد اور امتیاز کی حالت کا آبادی کے لحاظ سے بھی جائزہ پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق 2007 میں دنیا کی 68 فیصد آبادی کو بلند یا انتہائی بلند امتیاز کا سامنا تھا مگر 2012 میں ایسے امتیاز کا سامنا کرنے والی آبادی کی شرح بڑھ کے 76 فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماسوائے امریکہ کے دنیا کے ہر بڑے خطے میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور یہ چیز سب سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بڑھی ہے جو اب بھی 2010 اور 2011 کے دوران شخصی آمریتوں کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں کے اثرات سے گزر رہے ہیں۔

پیو ریسرچ سنٹر کا کہنا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ سکھوں، بہائیوں اور ملحد افراد کے خلاف تشدد آمیز رویہ بڑھا جبکہ اس کے برعکس ہندوؤں اور بودھوں کو ایسے رویے کا کم ہی سامنا کرنا پڑا۔

ادارے کے مطابق 2012 میں دنیا کے 110 ممالک میں عیسائیوں، 109 میں مسلمانوں جبکہ 77 میں یہودیوں کو یا تو حکومت یا پھر سماجی سطح پر جارحانہ رویے کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں بھی مذہبی منافرت اور تشدد میں معنی خیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں چین پہلی بار اس معاملے میں ہائی کیٹگری میں شامل ہوگیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں بھی مذہب کی بنا پر لوگوں کے ساتھ امتیاز اور تشدد میں کی بلند سطح پائی گئی ہے۔

اسی بارے میں