پاپائے روم کا اسقاطِ حمل کے خلاف سخت بیان

Image caption پوپ فرانسز نے یہ بیان ویٹیکن میں دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے اپنا سالانہ خطاب کرتے ہوئے دیا ہے

عیسائیوں کے روحانی پیشوا پاپائے روم نے اسقاطِ حمل کے خلاف اپنا سخت ترین بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے اسقاطِ حمل کو انسانی جان کی قدر نہ کرنے والے معاشرے میں ’فالتو چیزیں پھینک دینے کے رجحان‘ کی ایک خوفناک علامت قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ حمل کو وقت سے پہلے ختم کر دینے کے بارے میں سوچنا بھی ہیبت ناک ہے۔

مارچ میں منتخب ہونے کے بعد سے پاپائے روم نے اسقاطِ حمل کے بارے اپنے پیشروؤں کی طرح سخت الفاظ استعمال نہیں کیے تھے۔

انہوں نے یہ بیان ویٹیکن میں دیگر ممالک کے سفارتکاروں سے اپنا سالانہ خطاب کرتے ہوئے دیا ہے۔

دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ خوف ناک ہے کہ ایسے بھی بچے ہوتے ہیں، جو اسقاطِ حمل کی وجہ سے کبھی بھی دن کا سورج نہیں پاتے۔‘

انہوں نے کہا ’بدقسمتی سے جو کچھ پھینکا جاتا ہے اس میں نہ صرف خوراک اور دیگر اشیا شامل ہیں بلکہ ایسے انسان بھی ہیں جنہیں غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔‘

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ کیتھولک چرچ میں یہ تشویش پائی جانے لگی تھی کہ پاپائے روم نے اسقاطِ حمل کے بارے میں چرچ کے نظریے کو شد و مد سے پیش نہیں کیا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کچھ قدمات پسند عیسائیوں کو پاپائے روم کی جانب سے مذمت کے بجائے معافی کا موقف پسند نہیں تاہم ان کے لیے حالیہ بیان خوش آئند ہوگا۔

چند ماہ قبل پاپائے روم فرانسس نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے اسقاطِ حمل اور مانعِ حمل ادویات کے معاملات پر زیادہ بات نہیں کی ہے۔

تاہم انھوں نے یہ وضاحت دی تھی کہ ایسے متنازع معاملات پر ہر وقت بات کرنا ضروری نہیں ہے۔

اسی بارے میں