جنوبی سوڈان میں کشتی کا حادثہ، 200 افراد ڈوب گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مالاکل دریائے نیل کے بالائی علاقے میں موجود تیل کے کنوؤں کے راستے پر واقع ہے اور وسط دسمبر سے اس قصبے میں لڑائی ہو رہی ہے

جنوبی سوڈان میں فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مالاکل قصبے سے نقل مکانی کرتے ہوئے دو سو افراد دریائے نیل میں ڈوب گئے ہیں۔

اتوار کو پیش آنے والے کشتی کے حادثے میں کی ترجمان فیلپ ایگویر نے تصدیق کی۔

اقوام متحدہ کے مطابق جنوبی سوڈان میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جاری شورش کی وجہ سے 355000 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

جنوبی سوڈان: فوج کی بنتیو کی جانب پیش قدمی

جنوبی سوڈان میں امن فوج کے لیے پاکستان سے بھی رابطہ

مالاکل دریائے نیل کے بالائی علاقے میں موجود تیل کے کنوؤں کے راستے پر واقع ہے اور وسط دسمبر سے اس قصبے میں لڑائی ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس لڑائی میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں اس تنازع کو ختم کرنے کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔

جنوبی سوڈان نے 2011 میں سوڈان سے آزادی حاصل کی تھی اور یہ دنیا کی نئی ترین ریاست ہے۔

یاد رہے کہ حکومت نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ فوج باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں بینتیو اور بور میں پیش قدمی کر رہی ہے جبکہ بینتیو میں باغیوں نے اپنے دفاع کو مضبوط کیا ہے۔

جنوبی سوڈان کی حکومت کا یہ آپریشن باغی فوجیوں سے علاقے کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس خطے میں تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں۔

بی بی سی نامہ نگار ایلسٹر لیتہیڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد بنتیو میں اقوام متحدہ کے اڈّے میں پناہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت کے 11 مشتبہ باغیوں کے گرفتار کرنے کے بعد حکومت اور باغی فورسز کے درمیان مذاکرات بظاہر ناکام ہوگئے ہیں۔

اس کشیدگی کی وجہ سے تقریباً تین لاکھ سے زیادہ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے اور اس میں دنکا اور نوئر برادری کے درمیان نسل پرستانہ فسادات بھی ہوئے ہیں۔

کئی ممالک کی حکومتوں نے جنوبی سوڈان سے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے اور بہت سے جنوبی سوڈان کے شہری ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔

یہ معاملہ دسمبر 2013 کے وسط میں شروع ہوا جب صدر سلوا کیئر نے اپنے نائب ریئک مچار پر بغاوت کرنے کا الزام لگایا۔

ریئک مچار الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے گیارہ مشتبہ باغیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

جوبا کے مقامی صحافی مادنگ نگور نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کاروں کی ناکامی میں ایک اہم مسئلہ 11 مشتبہ باغیوں کی رہائی کا مسئلہ ہے۔

یونیٹی ریاست میں تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں اور جنوبی سوڈان کے لیے یہ ریاست زرِ مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔

اس کشیدگی کے آغاز سے تیل کی پیداوار میں تقریباً 20 فیصد کمی ہو گئی ہے۔

بنتیو اور جونگلی ریاست کا دارالحکومت بور، دونوں ہی باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

اسی بارے میں