برطانوی لڑکا قطبِ جنوبی پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لوئساب گینز ورلڈ ریکارڈ کو ثبوت پیش کریں گے تاکہ ان کے دعوے کی تصدیق ہو سکے

برطانیہ کے شہر برسٹل سے تعلق رکھنے والا ایک 16 سالہ لڑکا قطبِ جنوبی تک چل کر جانے والا کم سن ترین نوجوان بن گیا ہے۔

لوئس کلارک نے 48 دن تک منفی 50 ڈگری سنٹی گریڈ درجۂ حرارت اور دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کا مقابلہ کرتے ہوئے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

وہ انٹارکٹکا کے ساحل سے 1130 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے ہفتے کی شام کو قطبِ جنوبی کے ایمنڈسن سکاٹ سٹیشن پہنچے۔

اب وہ گینز ورلڈ ریکارڈ کو ثبوت پیش کریں گے تاکہ ان کے دعوے کی تصدیق ہو سکے۔

منزل پر پہنچنے کے بعد انھوں نے کہا: ’میں بہت خوش ہوں، لیکن خوش سے بھی زیادہ مطمئن ہوں کہ 48 دنوں میں پہلی بار مجھے صبح سویرے اٹھ کر نو گھنٹے تک اپنی برف گاڑی کو برفانی ہواؤں میں کھینچنا نہیں پڑے گا۔

’آج کا دن بہت سخت تھا۔ میں جوں جوں قطبِ جنوبی کے قریب ہوتا گیا، میری رفتار سست پڑتی گئی۔ میری ٹانگیں جواب دینے لگی تھیں۔

’لیکن اب منزل پر پہنچ گیا ہوں اور میں نے کھانا کھایا ہے اور اس وقت گرم خیمے میں بیٹھا ہوا ہوں۔‘

اس سے قبل جب لوئس اپنی منزل سے 16 کلومیٹر دور تھے تو ان کے والد نے کہا کہ ہفتے کے دن کا موسم ’خراب ترین‘ تھا۔

لوئس کو امید ہے کہ انھوں نے کینیڈا سے تعلق رکھنے والی سارا میک نیئر کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سارا نے 2005 میں 18 سال کی عمر میں ریکارڈ قائم کیا تھا۔

لوئس نے اپنا سفر دو دسمبر کو اپنی سالگرہ سے دو ہفتے قبل شروع کیا تھا۔ وہ اپنا سامان ایک برف گاڑی پر رکھ کر اسے گھسیٹتے ہوئے چلتے تھے۔ اس دوران انھیں تجربہ کار رہنما کارل ایلوی کا ساتھ میسر تھا۔

اس دوران انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں پاؤں میں چھالے، کھانسی اور ایک ٹوٹی ہوئی سکی شامل ہیں۔

اس دوران لوئس نے پرنسز ٹرسٹ کے لیے دو ہزار پاؤنڈ کا عطیہ بھی جمع کر لیا ہے۔

لوئس رات کو قطبِ جنوبی پر ہی رہیں گے، جس کے بعد وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے یونین گلیشیئر کے بیس کیمپ تک جائیں گے۔ وہ 24 جنوری کو برطانیہ لوٹیں گے۔

اسی بارے میں