عراق:سلسلہ وار بم دھماکوں میں 73 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بغداد میں ہونے والے سات کار بم دھماکے شیعہ اکثریت والی آبادی میں ہوئے

عراقی پولیس اور طبی حکام کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم سے کم 73 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں دارالحکومت بغداد میں ہوئیں جہاں شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہونے والے نو کار بم دھماکوں میں کم از کم 37 افراد مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

اس کے علاوہ عراق کے جنوبی صوبے دیالہ کے دارالحکومت بعقوبہ کے جنوب میں واقع ایک گاؤں میں حکومت کے سنّی عسکریت پسند کے جنازے پر ہونے والے حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے۔

پولیس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ عراق کے شمالی ضلعے شولہ میں پانچ دکاندار اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہاں کھڑی ایک کار کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

پولیس کے مطابق ایک تجارتی علاقے کرادہ میں ہونے والے ایک اور کار بم دھماکے میں چار شہری ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے گذشتہ ہفتے فلوجہ کے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ شہر پر قابض القاعدہ کے دہشت گردوں کو شہر سے نکال دیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ اگر لوگ ان عناصر کو خود ہی شہر سے نکال دیں تو شہر پر فوج کشی نہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پیر کو عراق کے وزیرِ اعظم نوری المالکی کے ساتھ ملاقات کے بعد عراقی رہنماؤں سے استدعا کی کہ وہ تشدد کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنائیں۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے فلوجہ کے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہر پر قابض القاعدہ کے دہشت گردوں کو شہر سے نکال دیں۔

نوری المالکی نے کہا کہ اگر لوگ ان عناصر کو خود ہی شہر سے نکال دیں تو شہر پر فوج کشی نہیں کی جائے گی۔

عراق کی فوج شہر پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ فلوجہ شہر کئی دنوں سے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں کے قبضے میں ہے۔

عراق میں گذشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں سنہ 2013 کے دوران 7,818 شہریوں کے علاوہ 1,050 سکیورٹی افواج کے اہل کار ہلاک ہوئے جن میں 759 ہلاکتیں صرف دسمبر میں ہوئیں۔

حالیہ مہینوں میں سنی شدت پسندوں نے عراق بھر میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور شیعہ گروہ انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں جس سے اس بات کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں ملک وسیع تر فرقہ وارانہ جنگ کی نذر نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں