مغرب شامی جہادیوں سے خائف، شامی حکومت سے رابطے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں باغیوں کی باہمی لڑائی میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام کے ڈپٹی وزیر خارجہ کے مطابق مغربی خفیہ ایجنسیوں کے حکام نے اسلامی شدت پسند گروپوں کے مسئلے پر دمشق کا دورہ کیا ہے۔

ڈپٹی وزیر خارجہ فیصل میکداد کے مطابق مغربی سکیورٹی حکام اور صدر بشارالاسد کے اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ کرنے والے سیاست دانوں میں اختلافات ہیں۔

صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے باغی گروہوں میں جہادی گروہوں کی شمولیت پر بین الاقوامی برادری کے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔

شامی باغیوں کی باہمی لڑائی کا مطلب؟

شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ مبینہ تعلقات ہی اصل مشکلات ہیں۔

بی بی سی کو حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں فیصل میکداد نے کہا کہ کئی مغربی حکومتیں بالآخر یہ بات سمجھ گئی ہیں کہ صدر بشارالاسد کی متبادل قیادت موجود نہیں ہے: ’اگر آپ کہیں کہ برطانیہ سمیت مغربی خفیہ ایجنسیوں کے حکام نے دمشق کا دورہ کیا ہے، تو میں اس کی وضاحت نہیں کروں گا لیکن ہاں ان میں سے کئی نے دمشق کا دورہ کیا ہے۔

’بالکل ان میں سے کچھ جنیوا امن بات چیت کا انتظار کر رہے ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ وہ دیگر ممکنات کو دیکھ رہے ہیں، ہم سکیورٹی اقدامات پر تعاون کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ مغربی یورپ سے شدت پسند ترکی اور شام بھیج رہے ہیں اور یہ ان کے لیے حقیقی خطرہ بن گیا ہے۔‘

شامی حزب اختلاف کے اتحاد کے ترجمان خالد صالح نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر مغربی خفیہ ایجنسیوں کے حکام کی دمشق سے رابطوں کی اطلاعات درست ہیں تو اس سے شامی گروہوں کے دوستوں کے الفاظ اور عمل میں واضح تضاد ظاہر ہوتا ہے۔‘

شامی حکومت کے حکام نے آئندہ ہفتے جنیوا میں شام کے مسئلے پر منعقد ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کرنا ہے۔ تاہم تاحال شامی حزب اختلاف نے امن کانفرنس میں شرکت کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف کا تیزی سے غیر منظم ہونا مغرب کی مایوسی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور اس سے شامی حکومت پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے کہا کہ وہ انٹیلی جنس معاملات پر بات نہیں کریں گے۔ تاہم بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لز ڈیوسٹ کے مطابق انھیں باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مغربی اور شامی انٹیلی جنس حکام میں ملاقات ہوئی ہے۔

منگل کو فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کے 700 شہری شام میں غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں شدت پسندی جہادی عناصر پر مغربی ممالک کی تشویش پر اضافہ ہو رہا ہے

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یورپ سے شام جانے والے غیر ملکی جنگجؤوں تعداد میں اضافے کا مطلب ہے کہ سب کو اس پر مشترکہ طور پر تشویش ہے، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مغرب ایک ایسی حکومت کے ساتھ کس حد تک جانے کو تیار ہو گا جس کے بارے میں اس کا موقف ہے کہ وہ خانہ جنگی کی ذمہ دار ہے۔

شام کے قومی اتحاد کے ایک اہل کار نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ نے ان سے کہا ہے کہ اگر حزب اختلاف کا اتحاد جنیوا مذاکرات میں جانے میں ناکام رہا تو اس صورت میں وہ اس کی حمایت کے بارے میں نظرِثانی کریں گے۔

دریں اثنا کویت میں شام کے متاثرین کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے امدادی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے لیے آئندہ سالوں کے لیے ساڑھے چھ ارب ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں