عالمی معیشت میں بہتری کے آثار: ورلڈ بینک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ترقی پذیر ممالک میں رواں سال شرحِ نمو 5.3 رہے گی

عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت’ اہم موڑ‘ پر ہے اور سال 2014 میں معاشی شرح نمو زیادہ بہتر رہنے کی توقع ہے۔

عالمی بینک کی عالمی معیشت سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیر ممالک معاشی بحران کے بعد اب ’بالآخر معاشی بحران سے نکلتے نظر آ رہے ہیں۔‘

عالمی بینک نے پیشن گوئی کی ہے کہ رواں سال عالمی معیشت میں ترقی کی شرح 3.2 فیصد رہے گی جو کہ گذشتہ سال 2.4 تھی، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ترقی کی شرح اس سے زیادہ بہتر رہے گی۔

ترقی پذیر ممالک میں رواں سال شرح نمو 5.3 رہے گی جو گذشتہ سال 4.8 تھی۔

تاہم رپورٹ میں خبردار بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ میں معاشی بہتری کے اقدامات واپس لیے جانے سے ترقی کے امکانات’کمزور‘ ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے پہلے ہی قرض پر دیے گئے بانڈ خریدنے کے 85 ارب ڈالر کے ماہانہ پروگرام میں کمی کرنا شروع کی دی ہے۔

اس کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے کہ عالمی شرحِ سود میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے ترقی پذیر ملک میں رقوم جانے اور واپس آنے کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر معیشت کو سہارا دینے کے اقدامات ختم کیے جانے سے مارکیٹ میں عدم استحکام آتا ہے تو اس صورت میں ترقی پذیر ممالک کو’ بحران کے خطرے‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

عالمی بینک کے گروپ صدر جم یونگ کِم کے مطابق ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا لیکن عالمی معیشت میں بہتری کو خطرہ لاحق رہے گا۔

ترقی یافتہ ممالک کی کارکردگی میں بہتری کا عمل آ رہا ہے جو آنے والے ماہ میں کے دوران ترقی پذیر ممالک کی شرحِ نمو میں اضافے کا سبب بن گا۔ لیکن اب بھی ترقی پذیر ممالک کو غربت میں کمی کے اقدامات میں تیزی لانے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ نئی ملازمتیں پیدا ہوں، معاشی نظام مضبوط ہو اور سماجی تحفظ کے دائرے میں اضافہ ہو۔

عالمی بینک کے ماہر معاشیات اینڈریو برنس نے بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ برازیل، ترکی، بھارت اور انڈونیشیا وہ ممالک ہیں جو امریکہ کی جانب سے معیشت کو سہارا دینے کے پروگرام کو ختم کرنے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے مرکزی بینک کی جانب سے گذشتہ ماہ معاشی پروگرام میں کٹوتیوں سے مارکیٹ پر اثر نہیں پڑا ہے۔

اسی بارے میں