نقل کا الزام، جوہری میزائلوں کے انچارج امریکی اہل کار معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی فضائیہ اور جوہری میزائلوں کی ٹیم گذشتہ کچھ عرصے سے زیرِ تنقید رہی ہے

امریکی فضائیہ نے اپنے ایسے 34 افسران کو امتحان میں نقل کے الزامات کے بعد معطل کر دیا ہے جن کی ذمہ داریوں میں ضرورت پڑنے پر ایٹمی میزائل داغنا بھی شامل ہے۔

یو ایس ایئر فورس کے مطابق یہ افراد صلاحیتوں کی جانچ کے دوران دھوکہ دہی کے مرتکب ہوئے اور ان میں سیکنڈ لیفٹینٹ سے لے کر کیپٹن کے عہدے تک کے افسران شامل ہیں۔

فضائیہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ افراد معمول کے امتحانات کے نتائج دیگر افراد کو بذریعہ ٹیکسٹ پیغام بھیج رہے تھے جبکہ کچھ نے اس بارے میں علم ہونے کے باوجود حکام کو مطلع نہیں کیا۔

نقل کے یہ الزامات فضائی اڈوں پر تعینات اہلکاروں کے منشیات کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے۔

یہ 34 افسران میم سٹورم کے فضائی اڈے پر تعینات تھے اور الزامات سامنے آنے کے بعد ان کی سکیورٹی کلیئرنس ختم کر دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب میزائل چلانے والی پوری ٹیم کے امتحانات دوبارہ لیے جائیں گے۔

امریکی فضائیہ کی وزیر ڈیبورا لی جیمز نے کہا ہے کہ ’یہ بالکل ناقابلِ قبول رویہ ہے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک کے جوہری پروگرام کی سکیورٹی کو کوئی خطرہ نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ آپ جان لیں کہ یہ ہمارے جوہری مشن کی نہیں بلکہ چند فضائی اہل کاروں کی ناکامی تھی۔‘

امریکی فضائیہ اور جوہری میزائلوں کی ٹیم گذشتہ کچھ عرصے سے زیرِ تنقید رہی ہے۔

فضائیہ اس وقت بھی اپنے چھ اڈوں پر اہل کاروں کے منشیات کے استعمال کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان چھ میں سے دو اڈے ایسے ہیں جہاں سے جوہر میزائل چلائے جا سکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ دور مار جوہری میزائلوں کے انچارج امریکی جنرل، میجر جنرل مائیکل کیری کو بھی جولائی میں دورۂ روس کے دوران ’شریف انسان کے شایانِ شان رویے‘ کا مظاہرہ نہ کرنے پر برطرف کر دیا گیا تھا۔

ان کی برطرفی سے چند دن قبل امریکی بحریہ نے بھی جوہری فورس کے منتظم ایک ایڈمرل کو غیرقانونی قمار بازی کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کیا تھا۔

اسی بارے میں