کانگریس اوباما کے خلاف ہوگی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صدر اوباما کی ٹیم اپنے مخالفین پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ جنگ چاہتے ہیں

رواں ہفتے صدر اوباما امریکی کانگریس کے چند ڈیموکریٹک اراکین سے ملاقات کریں گے جس میں وہ ان سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی مخالفت کرنےاور دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کی حمایت کرنے کے لیے کہیں گے۔

تاہم اوباما انتظامیہ کی کوششوں میں شاید کچھ دیر ہوگئی ہے۔

جوہری معاہدہ طویل اور مشکل راستے کا آغاز ہے: ایران

دونوں جماعتوں کے درمیان انتہائی منقسم ماحول اور اس سال نصف مدتی انتخابات کی وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کے لیے بہت مشکل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی ہی جماعت کے صدر کے خلاف جائیں، خصوصاً خارجہ امور کے معاملے میں جو کہ عام طور پر صدر کے ہی زیرِ نگرانی ہوتا ہے۔ اور جبکہ صدر اوباما کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ کانگریس جو کرنے والی ہے وہ اس قدر غیر معقول ہے، یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

لیکن صدر اوباما کی ٹیم کانگریس کے اراکین کو ایسی وجوہات فراہم کر رہی ہیں کہ وہ صدر کو ایک شکست سے دو چار کر دیں یعنی ایسا قانون بنا دیا جائے جو کہ ایران کے ساتھ جوہری معاملات پر مذاکرات کو ناکام کر دیں۔

صدر اوباما کی ٹیم اپنے مخالفین پر الزام لگا رہی ہے کہ وہ جنگ چاہتے ہیں۔

اس سے کانگریس کے اراکین ناراض ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انتظامیہ پابندیوں کی مخالفت کرتی تھی اور بعد میں انہی پابندیوں کو ایران کے میز پر آنے میں اہم قرار دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانگریس کے زیادہ تر اراکین یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس نئے قانون سے مذاکرات میں امریکی کی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں

کانگریس میں بہت سے اراکین ایسا سوچ رہے ہیں کہ گذشتہ کئی سالوں کا رجحان برقرار رہے گا: یعنی انتظامیہ نئی پابندیوں کی مخالفت کرے گی مگر جب وہ قانون بن جائے گا تو گھوم کر انہی پابندیوں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کا اہم طریقہ بنا کر پیش کریں گے۔

کانگریس کے زیادہ تر اراکین یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس نئے قانون سے مذاکرات میں امریکی کی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔

ان میں سے بہت سے یہ بھی سوچتے ہیں کہ جیسے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف اور صدر روحانی آیت اللہ خامنئی کے پلڑے کو بیلنس کرتے ہیں اسی طرح وہ ’گڈ کاپ‘ صدر اوباما کے ’بیڈ کاپ‘ بن رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے مذاکرات کار ایک دوسرے کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ میری مدد کیجیے کہ میں یہ معاہدہ اپنے ملک کے قدامت پسندوں سے منظور کروا سکوں کیونکہ ہمارے ملک میں ان کی طاقت بہت زیادہ ہے۔

مگر شاید اب وقت آ گیا ہے کہ گذشتہ کئی مرتبہ کے برعکس صدر اوباما کی مخالفت کے باوجود اب کی پابندیاں مذاکرات پر بہت برا اثر ڈالیں۔

مگر کانگریس یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے چند ڈیموکریٹک اراکین دیگر معاملات میں وائٹ ہاؤس کے ساتھ عدم ہم آہنگی کی وجہ سے بھی ناراض ہیں مثلاً ہیلتھ کیئر پلان میں مشکلات کا کیسے جواب دینا تھا۔

صدر اوباما کے ماضی کے امریکی صدور کی طرح کانگریس میں گہرے ذاتی تعلقات بھی نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا طریقہ بنایا ہے جس سے وہ کانگریس کے ساتھ کوئی ڈیل کر سکیں۔

کانگریس کے چند اراکین کو اس بات پر بھی ہیں کہ صدر اوباما نے ایک واضح موقف اپنا رکھا ہے کہ اگر یہ قانون بنتا ہے اور ایران اس کا ردِ عمل ظاہر کرے گا۔

اگر صدر اوباما بار بار یہ کہیں گے کہ ایران ردِ عمل ظاہر کرے گا تو پھر داخلی دباؤ سے بچنے کے لیے صدر روحانی کو سخت ردِ عمل ظاہر کرنا ہی پڑے گا۔

بلکہ انہیں تو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ صدر اوباما کے اندازے سے بھی زیادہ سخت ردِ عمل دیکھا رہے ہیں۔

یہی غلطی صدر اوباما کی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی میں پہلے بھی نظر آئی ہے۔

اسی بارے میں