مصر: ’کوتاہ قد افراد نئے آئین کے حامی‘

Image caption ’ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے اور ہمارے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق مصر میں کوتاہ قد افراد کی ایک بڑی تعداد ملک میں نئے آئین کے سلسلے میں ہونے والے ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیے آئی ہے۔

مجوزہ آئین میں پہلی بار کوتاہ قد افراد کو ایک معذور طبقہ مانا گیا ہے اور اس میں انھیں بھی وہی حقوق دیے جا رہے ہیں جو کہ معذور افراد کو دیے جاتے ہیں۔

سکندریا میں قائم کوتاہ قد افراد کی تنظیم کے سربراہ اسہام شہاتہ نے یوم7 نامی اخبار سے بات کرتے ہوئے نئے آئین کی تعریف کی اور کہا کہ یہ آئین آزادی اور سماجی انصاف کے سلسلے میں مصر میں انقلاب کے مقاصد کو پورا کرتا ہے۔

یہ تنظیم تقریباً 85000 کوتاہ قد مصریوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ دسمبر میں اسہام شہاتہ نے قاہرہ پوسٹ کو بتایا تھا کہ ان کے بہت سے ساتھی ایسا محسوس کرتے ہیں کہ ’انھیں نظر انداز کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔‘

منظور ہونے کی صورت میں نئے آئین کے تحت صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہو سکیں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس ریفرنڈم کے بعد صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے ملک میں جاری کشیدگی ختم ہو جائے گی۔

اسی بارے میں