اتحادی ممالک کی خفیہ نگرانی کا عمل روکنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’امریکہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ خفیہ معلومات حاصل کرنے کی اپنی قابلیت کا غلط استعمال نہ کرے‘

امریکی صدر براک اوباما نے داخلی اور خارجی سطح پر ملک کے جاسوسی کے نظام میں اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے اتحادی ممالک کی خفیہ نگرانی کا عمل روکنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعے کو واشنگٹن میں امریکی محکمۂ انصاف میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے دوست ممالک کے رہنماؤں اور عوام کو یقین دلایا کہ امریکہ سکیورٹی کی انتہائی ضرورت کے علاوہ ان کی ذاتی رابطوں اور بات چیت کی جاسوسی نہیں کرے گا۔

براک اوباما نے ملک میں الیکٹرانک نگرانی کے نظام میں تبدیلیوں اور اس کے احتساب کا اعلان کیا تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ عام آدمی کی آزادی متاثر نہ ہو۔

اوباما نے یہ کہا کہ ملک کی قومی سلامتی کی ایجنسی این ایس اے کروڑوں امریکیوں کے فون ریکارڈز سے حاصل کی گئی معلومات اپنے پاس نہیں رکھ سکے گی۔

یہ معلومات کہاں رکھی جائیں گی اس پر انہوں نے فی الحال کچھ نہیں کہا لیکن خفیہ اداروں کے حکام اور امریکی اٹارني جنرل کو اس پر رائے دینے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سابق امریکی خفیہ اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کی معلومات افشا کیے جانے کے بعد امریکہ کو دنیا بھر سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رواں سال مئی کے آخر میں ایڈورڈ سنوڈن خفیہ معلومات کا بڑا ذخیرہ لے کر امریکہ سے فرار ہو گئے تھے۔ امریکہ میں ان پر جاسوسی کا الزام ہے لیکن روس میں انھیں عارضی پناہ ملی ہوئی ہے۔

اس پر امریکی صدر نے نگرانی کے پورے نظام میں تبدیلی کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے گذشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں کئی سفارشات پیش کی تھیں جن کی بنیاد پر براک اوباما نے اب یہ اعلانات کیے ہیں۔

براک اوباما نے تقریر میں کہا کہ امریکہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ خفیہ معلومات حاصل کرنے کی اپنی قابلیت کا غلط استعمال نہ کرے۔

انہوں نے کہا: ’میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ ان عام افراد کی بالکل نگرانی نہیں کرتا جن سے امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں۔‘

امریکی صدر نے اتحادي ملکوں کے رہنماؤں کی تشويش بھی دور کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا: ’میں اپنے اتحادي ملکوں کے رہنماؤں سے کہنا چاہوں گا کہ اگر کسی معاملے پر مجھے ان کی سوچ کے بارے میں جاننا ہوگا تو میں فون اٹھا کر ان سے بات کر لوں گا، نہ کہ ان کی خفیہ نگرانی کروں گا۔‘

اوباما نے اپنی تقریر میں معلومات افشا کرنے والے این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’سنوڈن نے جن دستاویزات کو سنسنی خیز طریقے سے افشا کیا ان کی وجہ سے بہت سے امریکی پروگراموں پر آنے والے کئی برسوں تک اثر پڑے گا۔‘

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے جہاں ان اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے وہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کئی ایسے پہلو ہیں جن پر مزید ٹھوس اقدامات کیے جا سکتے تھے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو نگرانی کے خفیہ نظام پر زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

اسی بارے میں